نبیوں کا سردار ﷺ — Page 234
۲۳۴ نبیوں کا سردار ظلم سے تنگ آکر مدینہ کی طرف روانہ ہوا تھا اور آج خدا کا رسول مکہ فتح کرنے کے بعد اپنی خوشی سے اور اپنے عہد کو نبھانے کے لئے دوبارہ مدینہ میں داخل ہو رہا تھا۔غزوہ تبوک جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا تو ابو عامر مدنی جو خزرج قبیلہ میں سے تھا اور یہودیوں اور عیسائیوں سے میل ملاقات کی وجہ سے ذکر و وظائف کرنے کا عادی تھا اور اس کی وجہ سے لوگ اس کو راہب کہتے تھے مگر مذہبا عیسائی نہیں تھا۔یہ شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ میں پہنچ جانے کے بعد مکہ کی طرف بھاگ گیا تھا۔جب مکہ بھی فتح ہو گیا تو یہ سوچنے لگا کہ اب مجھے اسلام کے خلاف شورش پیدا کرنے کے لئے کوئی اور تدبیر کرنی چاہئے۔آخر اس نے اپنا نام اور طرز بدلی اور مدینہ کے پاس قبا نامی گاؤں میں جا کر رہنا شروع کیا۔سالہا سال باہر رہنے کی وجہ سے اور کچھ شکل اور لباس میں تبدیلی کر لینے کی وجہ سے مدینہ کے لوگوں نے عام طور پر اس کو نہ پہچانا۔صرف وہی منافق اس کو جانتے تھے جن کے ساتھ اس نے اپنا تعلق پیدا کر لیا تھا۔اس نے مدینہ کے منافقوں کے ساتھ مل کر یہ تجویز کی کہ میں شام میں جا کر عیسائی حکومت اور عرب عیسائی قبائل کو بھڑکا تا ہوں اور اُن کو مدینہ پر حملہ کرنے کی تحریک کرتا ہوں۔ادھر تم یہ مشہور کرنا شروع کر دو کہ شامی فوجیں مدینہ پر حملہ کر رہی ہیں۔اگر میری سکیم کامیاب ہو گئی تو پھر بھی ان دونوں کی مٹھ بھیڑ ہو جائے گی اور اگر میری سکیم کامیاب نہ ہوئی تو ان افواہوں کی وجہ سے مسلمان شاید شام پر جا کر خود حملہ کر دیں اور اس طرح قیصر کی حکومت اور ان میں لڑائی شروع ہو جائے گی اور ہمارا کام بن جائے گا۔چنانچہ یہ تحریک کر کے یہ شخص شام کی طرف گیا اور مدینہ کے منافقوں نے روزانہ مدینہ میں یہ خبریں مشہور کرنی شروع کر دیں کہ فلاں قافلہ ہمیں ملا تھا اور اُس نے