نبیوں کا سردار ﷺ — Page 235
۲۳۵ نبیوں کا سردار بتایا تھا کہ شامی لشکر مدینہ پر حملہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔دوسرے دن پھر کہد یتے تھے کہ فلاں قافلہ کے لوگ ہمیں ملے تھے اور اُنہوں نے کہا تھا کہ مدینہ پر شامی لشکر چڑھائی کرنے والا ہے۔یہ خبر میں اتنی شدت سے پھیلنی شروع ہوئیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مناسب سمجھا کہ آپ اسلامی لشکر لے کر خودشامی لشکروں کے مقابلہ کے لئے جائیں۔یہ وقت مسلمانوں کے لئے نہایت ہی تکلیف کا تھا۔قحط کا سال تھا پچھلے موسم میں غلہ اور پھل کم پیدا ہوا تھا اور اس موسم کی اجناس ابھی پیدا نہیں ہوئی تھیں۔ستمبر کا آخر یا اکتو بر کا شروع تھا، جب آپ اس مہم کے لئے روانہ ہوئے۔منافق تو جانتے تھے کہ یہ سب شرارت ہے اور یہ کہ انہوں نے یہ سب چالا کی اس لئے کی ہے کہ اگر شامی لشکر حملہ آور نہ ہوا تو مسلمان خود شامیوں سے جا لڑیں اور اس طرح تباہ ہو جائیں۔موتہ کی جنگ کے حالات ان کے سامنے تھے اُس وقت مسلمانوں کو اتنے بڑے لشکر کا سامنا کرنا پڑا تھا کہ وہ بہت کچھ نقصان اُٹھا کر بمشکل بچے تھے۔اب وہ ایک دوسری موتہ اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتے تھے جس میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی نعوذ باللہ شہید ہو جا ئیں اس لئے ایک طرف تو منافق روزانہ یہ خبریں پھیلاتے تھے کہ فلاں ذریعہ سے ہمیں معلوم ہوا ہے کہ دشمن حملہ کرنے والا ہے فلاں ذریعہ سے معلوم ہوا ہے کہ شامی فوجیں آرہی ہیں اور دوسری طرف لوگوں کو ڈرا رہے تھے کہ اتنے بڑے لشکر کا مقابلہ آسان نہیں تمہیں جنگ کے لئے نہیں جانا چاہئے۔ان کارروائیوں سے ان کی غرض یہ تھی کہ مسلمان شام پر حملہ کرنے کے لئے جائیں تو سہی لیکن جہاں تک ہو سکے کم سے کم تعداد میں جائیں تاکہ ان کی شکست زیادہ سے زیادہ یقینی ہو جائے۔مگر مسلمان رسول اللہ ﷺ کے اس اعلان پر کہ ہم شام کی طرف جانے والے ہیں اخلاص اور جوش سے بڑھ بڑھ کر قربانیاں کر رہے تھے۔غریب مسلمانوں کے پاس جنگ کے سامان تھے کہاں ؟ حکومت کا خزانہ بھی خالی تھا۔ان کے آسودہ حال بھائی ہی ان کی مدد