نبیوں کا سردار ﷺ — Page 233
۲۳۳ نبیوں کا سردار کے سوا یہ نمونہ کون دکھا سکتا ہے۔مگر باوجود اس طرح تمام اموال غرباء میں تقسیم کرنے کے پھر بھی ایسے سنگدل لوگ موجود تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تقسیم کو انصاف کی تقسیم نہیں سمجھتے تھے۔چنانچہ ذوالخویصرہ نامی ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا۔اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وسلم) جو کچھ آپ نے آج کیا ہے وہ میں نے دیکھا ہے۔آپ نے فرمایا تم نے کیا دیکھا؟ اس نے کہا میں نے یہ دیکھا ہے کہ آپ نے آج ظلم کیا ہے اور انصاف سے کام نہیں لیا۔آپ نے فرمایا تم پر افسوس! اگر میں نے عدل نہیں کیا تو پھر اور کون انسان دنیا میں عدل کرے گا۔اُس وقت صحابہ جوش میں کھڑے ہو گئے اور جب یہ شخص مسجد سے اٹھ کر گیا تو ان میں سے بعض نے کہا يَا رَسُولَ اللہ ! شیخی واجب القتل ہے کیا آپ اجازت دیتے ہیں کہ ہم اسے ماردیں؟ آپ نے فرمایا اگر یہ شخص قانون کی پابندی کرتا ہے تو ہم اس کو کس طرح مار سکتے ہیں۔صحابہ نے کہا يَا رَسُولَ اللَّهُ! ایک شخص ظاہر کچھ اور کرتا ہے اور اس کے دل میں کچھ اور ہوتا ہے کیا ایسا شخص سزا کا مستحق نہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے خدا نے یہ حکم نہیں دیا کہ میں لوگوں سے ان کے دلوں کے خیالات کے مطابق معاملہ کروں۔مجھے تو یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اُن کے ظاہر کے مطابق معاملہ کروں۔پھر آپ نے فرمایا یہ اور اس کے ساتھی ایک دن اسلام سے بغاوت کریں گے۔چنانچہ حضرت علی کے زمانہ میں یہ شخص اور اس کے قبیلہ کے لوگ اُن باغیوں کے سردار تھے جنہوں نے حضرت علی سے بغاوت کی اور خوارج کے نام سے آج تک مشہور ہیں۔ہوا زن سے فارغ ہو کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لے گئے۔یہ مدینہ والوں کے لئے پھر ایک نیا خوشی کا دن تھا۔ایک دفعہ خدا کا رسول مکہ کے لوگوں کے بخاری کتاب المناقب باب علامات النبوة فى الاسلام