نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 134 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 134

۱۳۴ نبیوں کا سردار لئے ہوئے کفار کا لشکر رات کو آرام کرنے کے لئے اپنے خیموں میں گیا، تو خدا تعالیٰ نے آسمانی نصرت کا ایک اور راستہ کھول دیا۔رات کو ایک سخت آندھی چلی جس نے قناتوں کے پر دے تو ڑ دیئے۔چولہوں پر سے ہنڈیاں گرادیں اور بعض قبائل کی آگیں بجھ گئیں۔مشرکین عرب میں ایک رواج تھا کہ وہ ساری رات آگ جلائے رکھتے تھے اور اس کو وہ نیک شگون سمجھتے تھے۔جس کی آگ بجھ جاتی تھی وہ خیال کرتا تھا کہ آج کا دن میرے لئے منحوس ہے اور وہ اپنے خیمے اُٹھا کر لڑائی کے میدان سے پیچھے ہٹ جاتا تھا۔جن قبائل کی آگ بجھی اُنہوں نے اس رواج کے مطابق اپنے خیمے اُٹھائے اور پیچھے کو چل پڑے تا کہ ایک دن پیچھے انتظار کر کے پھر لشکر میں آشامل ہوں۔لیکن چونکہ دن کے جھگڑوں کی وجہ سے سرداران لشکر کے دل میں شبہات پیدا ہو رہے تھے، جو قبائل پیچھے ہٹے اُن کے اردگرد کے قبائل نے سمجھا کہ شاید یہود نے مسلمانوں کے ساتھ مل کر شبخون مار دیا ہے اور ہمارے آس پاس کے قبائل بھاگے جا رہے ہیں۔چنانچہ انہوں نے بھی جلدی جلدی اپنے ڈیرے سمیٹنے شروع کر دیئے اور میدان سے بھاگنا شروع کیا۔ابوسفیان اپنے خیمہ میں آرام سے لیٹا تھا کہ اس واقعہ کی خبر اُسے بھی پہنچی۔وہ گھبرا کے اپنے بندھے ہوئے اُونٹ پر جا چڑھا اور اُس کو ایڑیاں مارنی شروع کر دی۔آخر اس کے دوستوں نے اس کو تو جہ دلائی کہ وہ یہ کیا حماقت کر رہا ہے۔اس پر اُس کے اُونٹ کی رسیاں کھولی گئیں اور وہ بھی اپنے ساتھیوں سمیت میدان سے بھاگ گیا ہے رات کے آخری ثلث میں وہ میدان جس میں پچیس ہزار کے قریب کفار کے سپاہی خیمہ زن تھے وہ ایک جنگل کی طرح ویران ہو گیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اُس وقت اللہ تعالیٰ نے الہام کے ذریعہ بتایا کہ تمہارے دشمن کو ہم نے بھگا دیا ہے۔آپ نے ل السيرة الحلبية جلد ۲ صفحه ۳۵۰،۳۴۹ مطبوعہ مصر ۱۹۳۵ء