نبیوں کا سردار ﷺ — Page 135
۱۳۵ نبیوں کا سردار رض حقیقت حال معلوم کرنے کے لئے کسی شخص کو بھیجنا چاہا اور اپنے اردگرد بیٹھے ہوئے صحابہ " کو آواز دی۔وہ سردی کے ایام تھے اور مسلمانوں کے پاس کپڑے بھی کافی نہ ہوتے تھے۔سردی کے مارے زبانیں تک جمی جارہی تھیں۔بعض صحابہؓ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سنی اور ہم جواب بھی دینا چاہتے تھے مگر ہم سے بولا نہیں گیا۔صرف ایک حذیفہ تھے جنہوں نے کہا يَا رَسُولَ الله ! کیا کام ہے؟ آپ نے فرمایا تم نہیں مجھے کوئی اور آدمی چاہئے۔پھر آپ نے فرما یا کوئی ہے؟ مگر پھر سردی کی شدت کی وجہ سے جو جاگ بھی رہے تھے وہ جواب نہ دے سکے۔حذیفہ نے پھر کہا میں يَارَسُوْلَ اللہ ! موجود ہوں۔آخر آپ نے حذیفہ کو یہ کہتے ہوئے بجھوایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے خبر دی ہے کہ تمہارے دشمن کو ہم نے بھگا دیا ہے، جاؤ اور دیکھو کہ دشمن کا کیا حال ہے حذیفہ خندق کے پاس گئے اور دیکھا کہ میدان گلی طور پر دشمن کے سپاہیوں سے خالی تھا۔واپس آئے اور کلمہ شہادت پڑھتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی تصدیق کی اور بتایا کہ دشمن میدان چھوڑ کر بھاگ گیا ہے۔صبح مسلمان اپنے خیمے اکھیڑ کر اپنے اپنے گھروں کی طرف آنے شروع ہوئے لے بنو قریظہ کو اُن کی غداری کی سزا ہیں دنوں کے بعد مسلمانوں نے اطمینان کا سانس لیا۔مگر اب بنوقریظہ کا معاملہ طے ہونے والا تھا۔اُن کی غداری ایسی نہیں تھی کہ نظر انداز کی جاتی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے واپس آتے ہی اپنے صحابہ سے فرما یا گھروں میں آرام نہ کرو بلکہ شام سے پہلے پہلے بنوقریظہ کے قلعوں تک پہنچ جاؤ اور پھر آپ نے حضرت علی کو بنوقریظہ کے پاس بجھوایا ل السيرة الحلبية جلد ۲ صفحه ۳۵۴ مطبوعہ مصر ۱۹۳۵ء