نبیوں کا سردار ﷺ — Page 62
۶۲ نبیوں کا سردار کے خزانے مسلمانوں کے قبضہ میں آئے۔جو مال اُس ایرانی حکومت کا اسلامی فوجوں کے قبضہ میں آیا اُس میں وہ کڑے بھی تھے جو کسری ایرانی دستور کے مطابق تخت پر بیٹھتے وقت پہنا کرتا تھا۔سراقہ مسلمان ہونے کے بعد اپنے اس واقعہ کو جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے وقت اُسے پیش آیا تھا مسلمانوں کو نہایت فخر کے ساتھ سنایا کرتا تھا اور مسلمان اس بات سے آگاہ تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مخاطب کر کے فرمایا تھا، سراقہ! اُس وقت تیرا کیا حال ہو گا جب تیرے ہاتھ میں کسری کے کنگن ہوں گے۔حضرت عمر کے سامنے جب اموال غنیمت لا کر رکھے گئے اور اُن میں اُنہوں نے کسری کے کنگن دیکھے تو سب نقشہ آپ کی آنکھوں کے سامنے پھر گیا۔وہ کمزوری اور ضعف کا وقت جب خدا کے رسول کو اپنا وطن چھوڑ کر مدینہ آنا پڑا تھا، وہ سراقہ اور دوسرے آدمیوں کا آپ کے پیچھے اس لئے گھوڑے دوڑانا کہ آپ کو مار کر یا زندہ کسی صورت میں بھی مکہ والوں تک پہنچادیں تو وہ سو اونٹوں کے مالک ہو جائیں گے اور اُس وقت آپ کا سراقہ سے کہنا سراقہ اُس وقت تیرا کیا حال ہو گا جب تیرے ہاتھوں میں کسری کے کنگن ہوں گے۔کتنی بڑی پیشگوئی تھی کتنا مصطفی غیب تھا۔حضرت عمر نے اپنے سامنے کسری کے کنگن دیکھے تو خدا کی قدرت اُن کی آنکھوں کے سامنے پھر گئی۔اُنہوں نے کہا سراقہ کو بلاؤ۔سراقہ بلائے گئے تو حضرت عمرؓ نے انہیں حکم دیا کہ وہ کسری کے کنگن اپنے ہاتھوں میں پہنیں۔سراقہ نے کہا۔اے خدا کے رسول کے خلیفہ ! سونا پہنا تو مسلمانوں کے لئے منع ہے۔حضرت عمرؓ نے فرمایا ہاں منع ہے مگر ان موقعوں کے لئے نہیں۔اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمہارے ہاتھ میں سونے کے کنگن دکھائے تھے یا تو تم یہ کنگن پہنو گے یا میں تمہیں سزا دوں گا۔سراقہ کا اعتراض تو محض شریعت کے مسئلہ کی وجہ سے تھا ورنہ وہ خود بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کو پورا ہوتے دیکھنے کا خواہش مند تھا۔سراقہ نے وہ کنگن اپنے ہاتھ میں پہن لئے اور