نبیوں کا سردار ﷺ — Page 61
۶۱ نبیوں کا سردار لی اور فال خراب نکلی۔میں نے دیکھا کہ ریت میں گھوڑے کے پاؤں اتنے دھنس گئے تھے کہ اُن کا نکالنا مشکل ہو رہا تھا۔تب میں نے سمجھا کہ یہ لوگ خدا کی حفاظت میں ہیں اور میں نے انہیں آواز دی کہ ٹھہرو اور میری بات سنو! جب وہ لوگ میرے پاس آئے تو میں نے انہیں بتایا کہ میں اس ارادہ سے یہاں آیا تھا مگر اب میں نے اپنا ارادہ بدل دیا ہے اور میں واپس جا رہا ہوں، کیونکہ مجھے یقین ہو گیا ہے کہ خدا تعالیٰ آپ لوگوں کے ساتھ ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہت اچھا جاؤ مگر دیکھو کسی کو ہمارے متعلق خبر نہ دینا۔اُس وقت میرے دل میں خیال آیا کہ چونکہ یہ شخص سچا معلوم ہوتا ہے اس لئے ضرور ہے کہ ایک دن کامیاب ہو۔اس خیال کے آنے پر میں نے درخواست کی کہ جب آپ کو غلبہ حاصل ہو گا اُس زمانہ کے لئے مجھے کوئی امن کا پروانہ لکھ دیں۔آپ نے عامر بن فہیرہ حضرت ابوبکر کے خادم کو ارشاد فرمایا کہ اسے امن کا پروانہ لکھ دیا جائے لے چنانچہ انہوں نے امن کا پروانہ لکھ دیا۔جب سراقہ لوٹنے لگا تو معا اللہ تعالیٰ نے سراقہ کے آئندہ حالات آپ پر غیب سے ظاہر فرما دیئے اور اُن کے مطابق آپ نے اُسے فرمایا۔سراقہ! اُس وقت تیرا کیا حال ہو گا جب تیرے ہاتھوں میں کسری کے کنگن ہوں گے۔سراقہ نے حیران ہوکر پوچھا، کسری بن ہرمز شہنشاہ ایران کے؟ آپ نے فرمایا ہاں! سے آپ کی یہ پیشگوئی کوئی سولہ سترہ سال کے بعد جا کر لفظ بلفظ پوری ہوئی۔سراقہ مسلمان ہو کر مدینہ آ گیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد پہلے حضرت ابوبکر" پھر حضرت عمر" خلیفہ ہوئے۔اسلام کی بڑھتی ہوئی شان کو دیکھ کر ایرانیوں نے مسلمانوں پر حملے شروع کر دیئے اور بجائے اسلام کو کچلنے کے خود اسلام کے مقابلہ میں کچلے گئے۔کسری کا دارالامارہ اسلامی فوجوں کے گھوڑوں کی ٹاپوں سے پامال ہوا اور ایران ل ، ٢ السيرة الحلبية جلد ۲ صفحه ۴۸۔مطبوعہ مصر ۱۹۳۵ء + بخاری باب هجرة النبى الله