نبیوں کا سردار ﷺ — Page 63
۶۳ نبیوں کا سردار مسلمانوں نے اس عظیم الشان پیشگوئی کو پورا ہوتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔صلى الله آنحضرت ﷺ کا مدینہ منورہ میں ورود مکہ سے بھاگ کر نکلنے والا رسول اب دنیا کا بادشاہ تھا ، وہ خود اس دنیا میں موجود نہیں تھا مگر اُس کے غلام اُس کی پیشگوئیوں کو پورا ہوتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔سراقہ کو رخصت کرنے کے بعد چند منزلیں طے کر کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ پہنچ گئے مدینہ کے لوگ بے صبری سے آپ کا انتظار کر رہے تھے اور اس سے زیادہ اُن کی خوش قسمتی اور کیا ہوسکتی تھی کہ وہ سورج جو مکہ کے لئے نکلا تھامد بینہ کے لوگوں پر جاطلوع ہوا۔جب انہیں یہ خبر پہنچی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے غائب ہیں تو وہ اُسی دن سے آپ کی انتظار کر رہے تھے۔اُن کے وفد روزانہ مدینہ سے باہر کئی میل تک آپ کی تلاش کے لئے نکلتے تھے اور شام کو مایوس ہو کر واپس آجاتے تھے۔جب آپ مدینہ کے پاس پہنچے تو آپ نے فیصلہ کیا کہ پہلے آپ قبا میں جو مدینہ کے پاس ایک گاؤں تھا ٹھہریں۔ایک یہودی نے آپ کی اونٹنیوں کو آتے دیکھا تو سمجھ گیا کہ یہ قافلہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے وہ ایک ٹیلے پر چڑھ گیا اور اُس نے آواز دی اے قبلہ کی اولاد! (قیلہ مدینہ والوں کی ایک دادی تھی ) تم جس کی انتظار میں تھے آ گیا ہے۔اس آواز کے پہنچتے ہی مدینہ کا ہر شخص قبا کی طرف دوڑ پڑا۔قبا کے باشندے اس خیال سے کہ خدا کا نبی اُن میں ٹھہر نے کے لئے آیا ہے خوشی سے پھولے نہ سماتے تھے۔اس موقع پر ایک ایسی بات ہوئی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سادگی کے کمال پر دلالت کرتی تھی۔مدینہ کے اکثر لوگ آپ کی شکل سے واقف نہ تھے۔جب قبا سے باہر آپ ایک درخت کے نیچے بیٹھے ہوئے تھے اور لوگ بھاگتے ہوئے مدینہ سے آپ کی