نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 266 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 266

۲۶۶ نبیوں کا سردار وہ آیات جن میں آپ کو اپنی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔چنانچہ عبداللہ بن مسعود روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قرآن شریف کی کچھ آیات پڑھ کر مجھے سناؤ۔میں نے اس کے جواب میں کہا۔یا رسول اللہ ! قرآن تو آپ پر نازل ہوا ہے میں آپ کو کیا سناؤں؟ آپ نے فرمایا میں پسند کرتا ہوں کہ دوسرے لوگوں سے بھی قرآن پڑھوا کر سنوں۔اس پر میں نے سورۂ نساء پڑھ کی سنانی شروع کی۔جب پڑھتے پڑھتے میں اس آیت پر پہنچا کہ فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِن كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هؤُلاء شَهِيد ال یعنی اس وقت کیا حال ہو گا جب ہم ہر قوم میں سے اس کے نبی کو اس کی قوم کے سامنے کھڑا کر کے اس قوم کا حساب لیں گے اور تجھ کو بھی تیری قوم کے سامنے کھڑا کر کے اس کا حساب لیں گے تو رسول اللہ علیہ نے فرمایا ” بس کرو۔بس کرو میں نے آپ کی طرف دیکھا تو آپ کی دونوں آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گر رہے تھے۔کے نماز کی پابندی کا آپ کو اتنا خیال تھا کہ سخت بیماری کی حالت میں بھی جبکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے گھر میں نماز پڑھ لینے اور لیٹ کر پڑھ لینے تک کی اجازت بھی ہوتی ہے آپ ہارا لے کر مسجد میں نماز پڑھانے کیلئے آتے۔ایک دن آپ نماز کے لئے نہ آسکے تو حضرت ابوبکر کونماز پڑھانے کا حکم فرمایا۔لیکن اتنے میں طبیعت میں کچھ سہولت معلوم ہوئی تو فور أدو آدمیوں کا سہارا لے کر مسجد کی طرف چل دیئے مگر کمزوری کا یہ حال تھا کہ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ چلنے میں آپ کے دونوں پاؤں زمین پر گھسٹتے جاتے تھے۔سے دنیا میں خوشنودی اور توجہ دلانے کے لئے تالیاں پیٹی جاتی ہیں عربوں میں بھی یہی النساء : ۴۲ بخاری کتاب فضائل القرآن باب البكاء عند قراءة القرآن بخاری کتاب الاذان باب حد المريض (الخ)