نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 265 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 265

۲۶۵ نبیوں کا سردار تک عبادت کرتے رہتے۔یہاں تک کہ بعض دفعہ آپ کے پاؤں سوج جاتے تھے اور آپ کے دیکھنے والوں کو آپ کی حالت پر رحم آتا تھا۔حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ ایک دفعہ میں نے ایسے ہی موقع پر کہا تیا رسُول اللہ ! آپ تو خدا تعالیٰ کے پہلے ہی مقرب ہیں آپ اپنے نفس کو اتنی تکلیف کیوں دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا اے عائشہ! أَفَلَا أَتُونُ عَبْدًا شَكُورًا اے جب یہ بات سچی ہے کہ خدا تعالیٰ کا میں مقرب ہوں اور خدا تعالیٰ نے اپنا فضل کر کے مجھے اپنا قرب عطا فرمایا ہے تو کیا میرا یہ فرض نہیں کہ جتنا ہو سکے میں اُس کا شکر یہ ادا کروں، کیونکہ آخر شکر احسان کے مقابل پر ہی ہوا کرتا ہے۔آپ کوئی بڑا کام بغیر اذنِ الہی کے نہیں کرتے تھے۔چنانچہ آپ کے حالات میں لکھا جاچکا ہے کہ باوجود مکہ کے لوگوں کے شدید ظلموں کے آپ نے مکہ اُس وقت تک نہ چھوڑا جب تک کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے آپ پر وحی نازل نہ ہوئی اور وحی کے ذریعہ سے آپ کو مکہ چھوڑنے کا حکم نہ دیا گیا۔اہل مکہ کے ظلموں کی شدت کو دیکھ کر آپ نے جب صحابہ کو حبشہ کی طرف ہجرت کر جانے کی اجازت دی اور انہوں نے آپ سے خواہش ظاہر کی کہ آپ بھی ان کے ساتھ چلیں ، تو آپ نے فرمایا مجھے ابھی خدا تعالیٰ کی طرف سے اذن نہیں ملا ظلم اور تکلیف کے وقت جب لوگ اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو اپنے اردگر دا اکٹھا کر لیتے ہیں آپ نے اپنی جماعت کو حبشہ کی طرف ہجرت کر کے چلے جانے کی ہدایت کی اور خود ا کیلے مکہ میں رہ گئے ، اس لئے کہ آپ کے خدا نے آپ کو ابھی ہجرت کرنے کا حکم نہیں دیا تھا۔خدا کا کلام آپ سنتے تو بے اختیار ہو کر آپ کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے۔خصوصاً بخاری کتاب التهجد باب قيام النبي ﷺ الیل حتی تر ما قدماه کے بخاری کتاب التفسیر تفسير سورة الفتح باب قوله ليغفر لك الله ما تقدم من ذنبك (الخ)