نبیوں کا سردار ﷺ — Page 171
121 نبیوں کا سردار اُسے مکہ والے واپس کرنے پر مجبور نہ ہوں گے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا اس میں کون سے حرج کی بات ہے ہر شخص جو مسلمان ہوتا ہے وہ اسلام کو سچ سمجھ کر مسلمان ہوتا ہے رسمی اور رواجی طور پر مسلمان نہیں ہوتا۔ایسا شخص جہاں بھی رہے گا وہ اسلام کی تبلیغ کرے گا اور اسلام کی اشاعت کا موجب ہوگا لیکن جو شخص اسلام سے مرتد ہوتا ہے ہم نے اُسے اپنے اندر رکھ کر کرنا کیا ہے۔جو شخص ہمارے مذہب کو جھوٹا سمجھ بیٹھا ہے وہ ہمارے لئے کس فائدہ کا موجب ہوسکتا ہے۔آپ کا یہ جواب ان غلطی خوردہ مسلمانوں کا بھی جواب ہے جو کہتے ہیں کہ اسلام میں مرتد کی سزا قتل ہے۔اگر اسلام میں مرتد کی سز اقتل ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بات پر اصرار کرتے کہ ہر مرتد واپس کیا جائے تا کہ اُس کو اُس کے جرم کی سزا دی جائے۔جس وقت یہ معاہدہ لکھ کر ختم ہوا اور اس پر دستخط کر دیئے گئے۔اُسی وقت اللہ تعالیٰ نے اس معاہدہ کی صحت کے پر کھنے کا سامان پیدا کر دیا۔سہیل جو مکہ والوں کی طرف سے معاہدہ کر رہا تھا اس کا اپنا بیٹا رسیوں سے جکڑا ہوا اور زخموں سے چور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آکر گرا اور کہا یا رسول اللہ! میں دل سے مسلمان ہوں اور اسلام کی وجہ سے میرا باپ مجھے یہ تکلیفیں دے رہا ہے۔میرا باپ یہاں آیا تو میں موقع پا کر آپ کے پاس پہنچا ہوں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابھی جواب نہ دیا تھا کہ اس کے باپ نے کہا معاہدہ ہو چکا ہے اور اس نوجوان کو واپس میرے ساتھ جانا ہوگا۔ابو جندل کی حالت اُس وقت مسلمانوں کے سامنے تھی وہ اپنے ایک بھائی کو جو اپنے باپ کے ہاتھوں سے اس قدر ظلم برداشت کر رہا تھا واپس جانا دیکھ نہیں سکتے تھے۔اُنہوں نے تلوار میں میانوں سے نکال لیں اور اس بات کا فیصلہ کر لیا کہ وہ مر جائیں گے مگر اپنے بھائی کو اس تکلیف کے مقام پر پھر جانے نہیں دیں گے۔خودا بوجندل نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یارسول اللہ! آپ میری حالت کو دیکھتے ہیں کیا آپ اس بات کو