نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 172 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 172

۱۷۲ نبیوں کا سردار گوارا کریں گے کہ پھر مجھے ان ظالموں کے سپرد کر دیں تا کہ پہلے سے بھی زیادہ مجھ پر ظلم توڑیں! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خدا کے رسول معاہدے نہیں تو ڑا کرتے۔ابو جندل! ہم معاہدہ کر چکے ہیں تم اب صبر سے کام لو اور خدا پر توکل کرو وہ تمہارے لیے اور تمہارے جیسے اور نوجوانوں کے لئے خود ہی بچنے کی کوئی راہ پیدا کر دے گا لے اس معاہدے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس مدینہ تشریف لے گئے۔جب آپ مدینہ پہنچے تو مکہ کا ایک اور نوجوان ابو بصیر آپ کے پیچھے پیچھے دوڑتا ہوا مدینہ پہنچا مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے بھی معاہدہ کے مطابق واپس جانے پر مجبور کیا مگر راستہ میں اُس کی اپنے پکڑنے والوں سے لڑائی ہو گئی اور اپنے ایک محافظ کو قتل کر کے وہ بھاگ گیا۔مکہ والوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر شکایت کی تو آپ نے فرمایا ہم نے تمہارا آدمی تمہارے حوالے کر دیا تھا ہم اس بات کے ذمہ دار نہیں کہ وہ جہاں کہیں بھی ہو ہم اُس کو پکڑ کر دوبارہ تمہارے سپر د کریں۔سے اس کے تھوڑے دنوں بعد ایک عورت بھاگ کر مدینہ پہنچی۔اس کے رشتہ داروں نے مدینہ پہنچ کر اُسے واپس بھجوانے کا مطالبہ کیا۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا معاہدہ میں مردوں کی شرط ہے عورتوں کی شرط نہیں اس لئے ہم عورت کو واپس نہیں کریں گے۔سے بادشاہوں کے نام خطوط مدینہ تشریف لے آنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارادہ کیا کہ آپ سيرة ابن هشام جلد ۳ صفحه ۳۳۲۔۳۳۳ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء سيرة ابن هشام جلد ۳ صفحه ۳۳۸۳۳۷ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء سيرة ابن هشام جلد ۳ صفحه ۳۴۰ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء