نبیوں کا سردار ﷺ — Page 146
۱۴۶ نبیوں کا سردار راستہ بظاہر جنگ کا نظر آتا ہے لیکن در حقیقت صلح کے قیام کے لئے اس کے سوا کوئی راستہ کھلا نہ تھا۔اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا نہ کرتے تو ممکن ہے جنگ سو سال تک لمبی چلی جاتی جیسا کہ ایسے ہی حالات میں پرانے زمانہ میں جنگیں سو سو سال تک جاری رہی ہیں۔خود عرب کی کئی جنگیں تھیں تھیں، چالیس چالیس سال تک جاری رہی ہیں۔ان جنگوں کی طوالت کی یہی وجہ معلوم ہوتی ہے کہ جنگ کے ختم کرنے کے لئے کوئی ذریعہ اختیار نہیں کیا جاتا تھا اور جیسا کہ میں بتا چکا ہوں جنگ کے ختم کرنے کے دو ہی ذرائع ہوا کرتے ہیں یا ایسی جنگ لڑی جائے جو دوٹوک فیصلہ کر دے اور دونوں فریق میں سے کسی ایک کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دے اور یا باہمی صلح ہو جائے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیشک ایسا کر سکتے تھے کہ مدینہ میں بیٹھے رہتے اور خود حملہ نہ کرتے۔لیکن چونکہ کفارِ عرب جنگ کی طرح ڈال چکے تھے آپ کے خاموش بیٹھنے کے یہ معنی نہ ہوتے کہ جنگ ختم ہو گئی ہے بلکہ اس کے صرف یہ معنی ہوتے کہ جنگ کا دروازہ ہمیشہ کیلئے کھلا رکھا گیا ہے۔کفار عرب جب چاہتے بغیر کسی اور محرک کے پیدا ہونے کے مدینہ پر حملہ کر دیتے اور اُس وقت تک کے دستور کے مطابق وہ حق پر سمجھے جاتے کیونکہ جنگ میں وقفہ پڑ جانا اُس زمانہ میں جنگ کے ختم ہو جانے کے مترادف نہیں سمجھا جاتا تھا بلکہ وقفہ بھی جنگ ہی میں شمار کیا جاتا تھا۔بعض لوگوں کے دلوں میں اس موقع پر یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ کیا ایک سچے مذہب کے لئے لڑائی کرنا جائز ہے؟ یہودیت اور عیسائیت کی تعلیم درباره جنگ میں اس جگہ اس سوال کا جواب بھی دے دینا ضروری سمجھتا ہوں جہاں تک مذاہب کا سوال ہے لڑائی کے بارہ میں مختلف تعلیمیں ہیں۔موسیٰ علیہ السلام کی تعلیم لڑائی کے بارہ