نبیوں کا سردار ﷺ — Page 145
۱۴۵ نبیوں کا سردار مغلوب کہلانے کے مستحق تھے اس لئے کہ : اوّل تو وہ بہت چھوٹی اقلیت میں تھے۔دوم انہوں نے اس وقت تک کوئی جارحانہ کارروائی نہیں کی تھی، یعنی کسی حملہ میں خود ابتداء نہیں کی تھی جس سے یہ سمجھا جائے کہ اب وہ اپنے آپ کو کفار کے اثر سے آزاد سمجھتے ہیں۔ان حالات میں مسلمانوں کی طرف سے صلح کی پیشکش کے صرف یہ معنی ہو سکتے تھے کہ وہ اب دفاع سے تنگ آگئے ہیں اور کچھ دے دلا کر اپنا پیچھا چھڑانا چاہتے ہیں۔ہر عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ ان حالات میں اگر مسلمان صلح کی پیشکش کرتے تو اس کا نتیجہ نہایت ہی خطرناک ہوتا اور یہ امران کی ہستی کے مٹا دینے کے مترادف ہوتا۔اپنی جارحانہ کارروائیوں میں ناکامی کی وجہ سے کفارِ عرب میں جو بے ولی پیدا ہو گئی تھی اس صلح کی پیشکش سے وہ فورا ہی نئی امنگوں اور نئی آرزوؤں میں بدل جاتی اور یہ سمجھا جاتا کہ مسلمان باوجود مدینہ کو تباہی سے بچا لینے کے آخری کامیابی سے مایوس ہو چکے تھے۔پس صلح کی تحریک مسلمانوں کی طرف سے کسی صورت میں بھی نہیں کی جاسکتی تھی۔اگر کوئی صلح کی تحریک کر سکتا تھا تو یا مکہ والے کر سکتے تھے یا کوئی تیسری ثالث قوم کر سکتی تھی۔مگر عرب میں کوئی ثالث قوم باقی نہیں رہی تھی۔ایک طرف مدینہ تھا اور ایک طرف سارا عرب تھا۔پس عملی طور پر کفار ہی تھے جو اس تجویز کو پیش کر سکتے تھے۔مگر اُن کی طرف سے صلح کی کوئی تحریک نہیں ہو رہی تھی۔یہ حالات اگر سو سال تک بھی جاری رہتے تو قوانین جنگ کے ماتحت عرب کی خانہ جنگی جاری رہتی۔پس جبکہ مکہ کے لوگوں کی طرف صلح کی تجویز پیش نہیں ہوئی تھی اور مدینہ کے کفار عرب کی ماتحتی ماننے کے لئے کسی صورت میں تیار نہ تھے تو اب ایک ہی راستہ کھلا رہ جاتا تھا کہ جب مدینہ نے عرب کے متحدہ حملہ کو بیکا ر کر دیا تو خود مدینہ کے لوگ باہر نکلیں اور کفار عرب کو مجبور کر دیں کہ یا وہ اُن کی ماتحتی قبول کرلیں یا اُن سے صلح کر لیں۔اور اسی راستہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار کیا۔پس گو یہ