نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 147 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 147

۱۴۷ نبیوں کا سردار میں اُو پر درج کر آیا ہوں۔تو رات کہتی ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کوحکم دیا گیا کہ وہ بزور کنعان میں گھس جائیں اور اُس جگہ کی قوموں کو شکست دے کر اس علاقہ میں اپنی قوم آباد کریں لے مگر باوجود اس کے کہ موسیٰ نے یہ تعلیم دی اور باوجود اس کے کہ یوشع ، داؤد اور دوسرے انبیاء نے اس تعلیم پر متواتر عمل کیا یہودی اور عیسائی اُن کو خدا کا نبی اور تورات کو خدا کی کتاب سمجھتے ہیں۔موسوی سلسلہ کے آخر میں حضرت مسیح " ظاہر ہوئے اُن کی جنگ کے متعلق یہ تعلیم ہے کہ ظالم کا مقابلہ نہ کرنا بلکہ جو تیرے داہنے گال پر طمانچہ مارے دوسرا بھی اُس کی طرف پھیر دے کے اس سے استنباط کرتے ہوئے عیسائی قوم یہ دعوی کرتی ہے کہ میچ نے لڑائی سے قوموں کو منع کیا ہے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ انجیل میں اس تعلیم کے خلاف اور تعلیمیں بھی آئی ہیں۔مثلاً انجیل میں لکھا ہے:۔یہ مت سمجھو کہ میں زمین پر صلح کروانے آیا ہوں صلح کروانے نہیں بلکہ تلوار چلانے آیا ہوں“ سے اسی طرح لکھا ہے:۔اُس نے انہیں کہا پر آب جس کے پاس بٹوا ہو لیوے اور اسی طرح جھولی بھی۔اور جس کے پاس تلوار نہیں اپنے کپڑے بیچ کر تلوار خریدے“ کے یہ آخری دو علیمیں پہلی تعلیم کے بالکل متضاد ہیں۔اگر مسیح جنگ کرانے کے لئے آیا تھا تو پھر لے استثناء باب ۲۰ آیت ۱۰ تا ۱۸۔نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء سے منتی باب ۵ آیت ۳۹۔نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء سے متی باب ۱۰ آیت ۳۴۔نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۷۰ ر۱۸۷۰ء سے لوقا باب ۲۲ آیت ۳۶۔نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء