نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 75 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 75

۷۵ نبیوں کا سردار یہودیوں کے ساتھ اور مدینہ کے اُن باشندوں کے ساتھ جو اسلام میں شامل نہ ہوں محبت، پیار اور ہمدردی کا سلوک کیا جائے گا اور انہیں بھائیوں کی طرح رکھا جائے گا۔پس بعد میں یہود کے ساتھ جس قدر جھگڑے پیدا ہوئے اُن کی ذمہ داری خالصہ یہود پر تھی۔اہل مکہ کی طرف سے از سرِ نو شرارتوں کا آغاز جیسا کہ بتایا جا چکا ہے کہ دو تین مہینہ کے بعد مکہ والوں کی پریشانی جب دور ہوئی تو اُنہوں نے پھر سے اسلام کے خلاف ایک نیا محاذ قائم کیا۔چنانچہ انہی ایام میں مدینہ کے ایک رئیس سعد بن معاذ جو اوس قبیلہ کے سردار تھے بیت اللہ کا طواف کرنے کے لئے مکہ گئے تو ابو جہل نے اُن کو دیکھ کر بڑے غصہ سے کہا کیا تم لوگ یہ خیال کرتے ہو کہ اُس مرتد ( محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کو پناہ دینے کے بعد تم لوگ امن کے ساتھ کعبہ کا طواف کر سکو گے اور تم یہ گمان کرتے ہو کہ تم اُس کی حفاظت اور امداد کی طاقت رکھتے ہو۔خدا کی قسم ! اگر اس وقت تیرے ساتھ ابو صفوان نہ ہوتا تو تو اپنے گھر والوں کے پاس بیچ کر نہ جا سکتا۔سعد بن معاذ نے کہا۔واللہ! اگر تم نے ہمیں کعبہ سے روکا تو یاد رکھو پھر تمہیں بھی تمہارے شامی راستہ پر امن نہیں مل سکے گا۔اُنہی دنوں میں ولید بن مغیرہ مکہ کا ایک بہت بڑا رئیس بیمار ہوا اور اُس نے محسوس کیا کہ اُس کی موت قریب ہے۔ایک دن مکہ کے بڑے بڑے رئیس اُس کے پاس بیٹھے تھے تو وہ بے اختیار ہو کر رونے لگ گیا۔مکہ کے رؤساء حیران ہوئے اور اُس سے پوچھا کہ آخر آپ روتے کیوں ہیں؟ ولید نے کہا کیا تم سمجھتے ہو کہ میں موت کے ڈر سے روتا ہوں کو اللہ ! ایسا ہر گز نہیں، مجھے تو یہ غم ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) کا دین پھیل جائے اور مکہ بھی اس کے قبضہ میں چلا جائے۔ابوسفیان نے جواب میں کہا۔اس بات کا غم نہ کرو جب تک ہم زندہ ہیں ایسا نہیں ہوگا ہم اس بات