نبیوں کا سردار ﷺ — Page 76
نبیوں کا سردار کے ضامن ہیں۔ان تمام واقعات سے ثابت ہوتا ہے کہ مکہ کے لوگوں کے مظالم میں جو وقفہ ہوا تھا وہ عارضی تھا۔دوبارہ قوم کو اُکسایا جارہا تھا۔مرنے والے رؤساء موت کے بستر پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کی قسمیں لے رہے تھے۔مدینہ کے لوگوں کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف لڑائی پر آمادہ کیا جار ہا تھا اور اُن کے انکار پر دھمکیاں دی جارہی تھیں کہ مکہ والے اور اُن کے حلیف قبائل لشکر لے کر مدینہ پر حملہ کریں گے اور مدینہ کے مردوں کو ماردیں گے اور عورتوں کو غلام بنالیں گے۔آنحضرت اللہ کی مدافعانہ تدابیر علی پس ان حالات میں اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں خاموش بیٹھے رہتے اور مدینہ کی حفاظت کا کوئی سامان نہ کرتے تو یقینا آپ پر ایک بہت بڑی ذمہ داری عاید ہوتی۔پس آپ نے چھوٹے چھوٹے وفدوں کی صورت میں اپنے صحابہ کو مکہ کے اردگرد بجھوانا شروع کیا تا کہ مکہ والوں کی کارروائیوں کا آپ کو علم ہوتار ہے۔بعض دفعہ ان لوگوں کی مکہ کے قافلوں یا مکہ کی بعض جماعتوں سے مٹھ بھیڑ بھی ہو جاتی اور ایک دوسرے کو دیکھ لینے کے بعد لڑائی تک بھی نوبت پہنچ جاتی۔مسیحی مصنف لکھتے ہیں کہ یہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے چھیڑ چھاڑ تھی۔کیا مکہ میں تیرہ سال تک جو مسلمانوں پر ظلم کیا گیا اور مدینہ کے لوگوں کو مسلمانوں کے خلاف کھڑا کرنے کی جو کوشش کی گئی اور پھر مدینہ پر حملہ کرنے کی جو دھمکیاں دی گئیں ، ان واقعات کی موجودگی میں آپ کا خبر دار رہنے کے لئے وفود بھجوانا کیا چھیڑ چھاڑ کہلا سکتا ہے؟ کونساد نیا کا قانون ہے جو مکہ کے تیرہ سال کے مظالم کے بعد بھی مسلمانوں اور اہل مکہ میں لڑائی چھیڑنے کے لئے کسی مزید وجہ کی ضرورت سمجھتا ہو۔