نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 74 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 74

۷۴ نبیوں کا سردار تنظیم میں سے اپنے اخراجات خود برداشت کریں گے اور مسلمان اپنے اخراجات خود برداشت کریں گے لیکن لڑائی کی صورت میں وہ دونوں مل کر کام کریں گے۔مدینہ اُن تمام لوگوں کے لئے جو اس معاہدہ میں شامل ہوتے ہیں ایک محترم جگہ ہوگی۔جو اجنبی کہ شہر کے لوگوں کی حمایت میں آجائیں اُن کے ساتھ بھی وہی سلوک ہوگا جو اصل باشد گانِ شہر کے ساتھ ہوگا۔لیکن مدینہ کے لوگوں کو یہ اجازت نہ ہو گی کہ کسی عورت کو اُس کے رشتہ داروں کی مرضی کے بغیر اپنے گھروں میں رکھیں۔جھگڑے اور فساد خدا اور اس کے رسول کے پاس فیصلہ کے لئے پیش کئے جائیں گے۔مکہ والوں اور اُن کے حلیف قبائل کے ساتھ اس معاہدہ میں شامل ہونے والے کوئی معاہدہ نہیں کریں گے، کیونکہ اس معاہدہ میں شامل ہونے والے مدینہ کے دشمنوں کے خلاف اس معاہدہ کے ذریعہ سے اتفاق کر چکے ہیں۔جس طرح جنگ علیحدہ نہیں کی جاسکے گی اسی طرح صلح بھی علیحدہ نہیں کی جاسکے گی۔لیکن کسی کو مجبور نہیں کیا جائے گا کہ وہ لڑائی میں شامل ہو۔ہاں اگر کوئی شخص ظلم کا کوئی فعل کرے گا تو وہ سزا کا مستحق ہوگا۔یقینا خدا نیکوں اور دینداروں کا محافظ ہے اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) خدا کے رسول ہیں ، لے یہ معاہدہ کا خلاصہ ہے۔اس معاہدہ میں بار بار اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ دیانتداری اور صفائی کو ہاتھ سے نہیں چھوڑا جائے گا اور ظالم اپنے ظلم کا خود ذمہ دار ہوگا۔اس معاہدہ سے ظاہر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے یہ فیصلہ ہو چکا تھا کہ سیرت ابن هشام جلد ۲ صفحه ۷ ۱۴ تا ۱۵۰ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء