نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 55 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 55

نبیوں کا سردار مسلمانوں کی تعداد سے تھی۔اُن میں ۶۲ خزرج قبیلہ کے تھے اور گیارہ اوس کے تھے لے اور اس قافلہ میں دو عورتیں بھی شامل تھیں جن میں سے ایک بنی نجار قبیلہ کی اُم عمارہ بھی تھیں۔چونکہ مصعب کے ذریعہ سے اِن لوگوں تک اسلام کی تفصیلات پہنچ چکی تھیں یہ لوگ ایمان اور یقین سے پر تھے ، بعد کے واقعات نے ظاہر کر دیا کہ یہ لوگ آئندہ اسلام کا ستون ثابت ہونے والے تھے۔اُم عمارہ " جو اُس دن شامل ہوئیں انہوں نے اپنی اولاد میں اسلام کی محبت اتنی داخل کر دی کہ اُن کا بیٹا خبیب جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد مسیلمہ کذاب کے لشکر کے ہاتھ میں قید ہو گیا تو مسیلمہ نے اُسے بلا کر پوچھا کہ کیا تو گواہی دیتا ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں؟ خبیب نے کہاں ہاں۔پھر مسیلمہ نے کہا کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ خبیب نے کہا نہیں۔اس پر مسیلمہ نے حکم دیا کہ ان کا عضو کاٹ لیا جائے۔تب مسیلمہ نے پھر اُن سے پوچھا۔کیا تو گواہی دیتا ہے کہ محمد اللہ کے رسول ہیں؟ خبیب نے کہا ہاں۔پھر اُس نے کہا کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ خبیب نے کہا نہیں۔پھر اُس نے آپ کا ایک دوسرا عضو کاٹنے کا حکم دیا۔ہر عضو کاٹنے کے بعد وہ سوال کرتا جا تا تھا کہ کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں اور خبیب" کہتا تھا کہ نہیں۔اسی طرح اس کے سارے اعضاء کالے گئے اور آخر میں اسی طرح ٹکڑے ٹکڑے ہو کر اپنے ایمان کا اعلان کرتے ہوئے وہ خدا سے جاملا۔خود ام عمارہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بہت سی جنگوں میں شامل ہوئیں۔غرض یہ ایک مخلص اور ایمان والا قافلہ تھا جس کے افراد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ سیرت ابن ہشام جلد ۲ صفحہ ۹۷۔مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء سے سیرت ابن ہشام جلد ۲ صفحہ ۱۱۰،۱۰۹۔مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء