نبیوں کا سردار ﷺ — Page 56
۵۶ نبیوں کا سردار وسلم سے دولت اور مال مانگنے نہیں آئے تھے بلکہ صرف ایمان طلب کرنے آئے تھے۔عباس نے اُن کو مخاطب کر کے کہا اے خزرج قبیلہ کے لوگو! یہ میرا عزیز اپنی قوم میں معزز ہے اس کی قوم کے لوگ خواہ وہ مسلمان ہیں یا نہیں اس کی حفاظت کرتے ہیں لیکن اب اس نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ تمہارے پاس جائے۔اے خزرج کے لوگو! اگر یہ تمہارے پاس گیا تو سارا عرب تمہارا مخالف ہو جائے گا۔اگر تم اپنی ذمہ داری کو سمجھتے اور ان خطرات کو پہچانتے ہوئے جو تمہیں اس کے دین کی حفاظت میں پیش آنے والے ہیں اس کو لے جانا چاہتے ہو تو خوشی سے لے جاؤ ورنہ اس ارادہ سے باز آ جاؤ۔اس قافلہ کے سردار البراء تھے اُنہوں نے کہا ہم نے آپ کی باتیں سن لیں۔ہم اپنے ارادہ میں پختہ ہیں ہماری جانیں خدا کے نبی کے قدموں پر نثار ہیں۔اب فیصلہ اُس کے اختیار میں ہے۔ہم اُس کا ہر فیصلہ قبول کریں گے۔اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اسلام کی تعلیم سمجھانی شروع کی اور خدا تعالیٰ کی توحید کے قیام کا وعظ کیا اور انہیں کہا کہ اگر وہ اسلام کی حفاظت اپنی بیویوں اور اپنے بچوں کی طرح کرنے کا وعدہ کرتے ہیں تو وہ آپ کے ساتھ جانے کے لئے تیار ہیں لے آپ اپنی بات ختم کرنے نہ پائے تھے کہ مدینہ کے ۷۲ جاں نثار یک زبان ہوکر چلائے ہاں ! ہاں !! اُس وقت جوش میں اُنہیں مکہ والوں کی شرارتوں کا خیال نہ رہا اور اُن کی آوازیں فضاء میں گونج گئیں۔عباس نے اُنہیں ہوشیار کیا اور کہا خاموش ! خاموش! ایسا نہ ہو کہ ملکہ کے لوگوں کو اس واقعہ کا علم ہو جائے۔مگر اب وہ ایمان حاصل کر چکے تھے، اب موت اُن کی نظروں میں حقیر ہو چکی تھی۔عباس کی بات سن کر اُن کا ایک رئیس بولا۔يَا رَسُول اللہ ! ہم ڈرتے نہیں ، آپ اجازت دیجئے ابھی مکہ والوں سے لڑ کر انہوں نے جو ظلم آپ پر کئے ہیں اُس کا بدلہ لینے کو تیار ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ابھی خدا تعالیٰ نے سیرت ابن هشام جلد ۲ صفحہ ۸۵،۸۴۔مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء