نبیوں کا سردار ﷺ — Page 54
۵۴ نبیوں کا سردار طرف سے اُتارا گیا ہے اور ہم جو سب جہانوں کے رب ہیں تم سے کہتے ہیں کہ اگر یہ ایک آیت بھی جھوٹی بنا کر ہماری طرف منسوب کرتا تو ہم اس کا دایاں ہاتھ پکڑ لیتے اور پھر اُس کی رگ جان کو کاٹ دیتے اور اگر تم سب لوگ مل کر بھی اُس کو بچانا چاہتے تو تم اُس کو نہ بچا سکتے۔مگر یہ قرآن تو خدا سے ڈرنے والوں کے لئے ایک نصیحت ہے اور ہم جانتے ہیں کہ تم میں اس قرآن کو جھٹلانے والے بھی موجود ہیں مگر ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ اس کی تعلیم اس کے منکروں کے دلوں میں حسرتیں پیدا کر رہی ہے اور وہ کہہ رہے ہیں کہ کاش ! یہ تعلیم ہمارے پاس ہوتی۔اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ جو باتیں اس قرآن میں بتائی گئی ہیں وہ لفظاً لفظاً پوری ہو کر رہیں گی۔پس اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) ان لوگوں کی مخالفتوں کی پرواہ نہ کر اور اپنے عظیم الشان رب کے نام کی بزرگی بیان کرتا چلا جا۔آخر تیسرا حج بھی آپہنچا اور مدینہ کے حاجیوں کا قافلہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد پر مشتمل مکہ میں وارد ہوا۔مکہ والوں کی مخالفت کی وجہ سے مدینہ کے لوگوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے علیحدہ ملنے کی خواہش کی۔اب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذہن ادھر منتقل ہو چکا تھا کہ شاید ہجرت مدینہ ہی کی طرف مقدر ہے۔آپ نے اپنے معتبر رشتہ داروں سے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور انہوں نے آپ کو سمجھانا شروع کیا کہ آپ ایسا نہ کریں۔مکہ والے دشمن ہی سہی پھر بھی اس میں بڑے بڑے با اثر لوگ آپ کے رشتہ داروں میں سے موجود ہیں نہ معلوم مدینہ میں کیا ہو اور وہاں آپ کے رشتہ دار آپ کی مدد کر سکیں یا نہ کر سکیں۔مگر چونکہ آپ سمجھ چکے تھے کہ خدائی فیصلہ یہی ہے آپ نے اپنے رشتہ داروں کی باتیں رڈ کر دیں اور مدینہ جانے کا فیصلہ کر دیا۔آدھی رات کے بعد پھر وادی عقبہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مدینہ کے مسلمان جمع ہوئے۔اب آپ کے ساتھ آپ کے چا عباس بھی تھے۔اس دفعہ مدینہ کے