نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 41 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 41

۴۱ نبیوں کا سردار غیرت کے جوش میں ابولہب نے آپ کا ساتھ چھوڑ دیا اور عہد کیا کہ وہ آئندہ پہلے سے بھی زیادہ آپ کی مخالفت کرے گا۔محصوری کی زندگی کی وجہ سے چونکہ تین سال تک لوگ اپنے رشتہ داروں سے جدا رہے تھے اس لئے تعلقات میں ایک سردی پیدا ہو گئی تھی۔مکہ والے مسلمانوں سے قطع کلامی کے عادی ہو چکے تھے اس لئے تبلیغ کا میدان محدود ہو گیا تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ حالت دیکھی تو آپ نے فیصلہ فرمایا کہ وہ مکہ کی بجائے طائف کے لوگوں کو جا کر اسلام کی دعوت دیں۔آپ یہ سوچ ہی رہے تھے کہ مکہ والوں کی مخالفت نے اس ارادہ کو اور بھی مضبوط کر دیا۔اوّل تو مکہ والے بات سنتے ہی نہیں تھے دوسرے اب انہوں نے یہ طریقہ اختیار کر لیا کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم کوگلیوں میں چلنے ہی نہ دیتے۔جب آپ باہر نکلتے آپ کے سر پر مٹی پھینکی جاتی تا کہ آپ لوگوں سے مل ہی نہ سکیں۔ایک دفعہ اسی حالت میں واپس لوٹے تو آپ کی ایک بیٹی آپ کے سر پر مٹی ہٹاتے ہوئے رونے لگی۔آپ نے فرمایا او میری بچی ! رو نہیں کیونکہ یقیناً خدا تمہارے باپ کے ساتھ ہے۔آپ تکالیف سے گھبراتے نہ تھے، لیکن مشکل یہ تھی کہ لوگ بات سنے کو تیار نہ تھے۔جہاں تک تکالیف کا سوال ہے آپ اُن کو ضروری سمجھتے تھے بلکہ آپ کے لئے سب سے زیادہ تکلیف کا دن تو وہ ہوتا تھا جب کو ئی شخص آپ کو تکلیف نہیں دیتا تھا۔لکھا ہے کہ ایک دن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کی گلیوں میں تبلیغ کے لئے نکلے مگر اُس دن کسی منصوبہ کے تحت کسی شخص نے آپ سے کلام نہ کیا اور نہ آپ کو کسی قسم کی کوئی تکلیف دی نہ کسی غلام نے نہ کسی آزاد نے۔تب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم صدمہ اور غم سے خاموش لیٹ گئے۔یہاں تک کہ خدا تعالیٰ نے آپ کو تسلی دی اور فرمایا جاؤ اور اپنی قوم کو پھر اور پھر اور پھر ل السيرة الحلبية جلدا صفحه ۳۹۱ مطبوعه مصر ۱۹۳۲ء