نبیوں کا سردار ﷺ — Page 42
۴۲ نبیوں کا سردار ہوشیار کرو اور ان کی عدم توجہی کی پرواہ نہ کرو۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ بات گراں نہ گزرتی تھی کہ لوگ آپ کو دکھ دیتے تھے لیکن خدا کا نبی جو دنیا کو ہدایت دینے کے لئے مبعوث ہوا تھا وہ اس بات کو کب برداشت کر سکتا تھا کہ لوگ اُس سے بات ہی نہ کریں اور اس کی بات سننے کے لئے تیار ہی نہ ہوں۔ایسی بیکار زندگی اس کے لئے سب سے زیادہ تکلیف دہ تھی۔پس آپ نے پختہ فیصلہ کر لیا کہ اب آپ طائف کی طرف جائیں گے اور طائف کے لوگوں کو خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچائیں گے اور خدا تعالیٰ کے نبیوں کے لیے یہی مقدر ہوتا ہے کہ وہ ادھر سے اُدھر مختلف قوموں کو مخاطب کرتے پھریں۔حضرت موسی کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا، کبھی وہ آل فرعون سے مخاطب ہوا تو کبھی آل اسحاق سے اور کبھی مدین کے لوگوں سے۔حضرت عیسی علیہ السلام کو بھی تبلیغ کے شوق میں کبھی جلیل کے لوگوں ،کبھی یردن پار کے لوگوں، کبھی یروشلم کے لوگوں، اور کبھی اور دوسرے لوگوں کو مخاطب کرنا پڑا۔جب مکہ کے لوگوں نے باتیں سننے سے ہی انکار کر دیا اور یہ فیصلہ کرلیا کہ مارو اور پیٹو مگر بات بالکل نہ سنو، تو آپ نے طائف کی طرف رُخ کیا۔طائف مکہ سے کوئی ساٹھ میل کے قریب وب مشرق کی طرف ایک شہر ہے جو اپنے پھلوں اور اپنی زراعت کی وجہ سے مشہور ہے۔یہ شہر بت پرستی میں مکہ والوں سے کم نہ تھا۔خانہ کعبہ میں رکھے ہوئے بتوں کے سوالات نامی ایک مشہور بت طائف کی اہمیت کا موجب تھا جس کی زیارت کیلئے عرب کے لوگ دُور دور سے آتے تھے۔طائف کے لوگوں کی مکہ سے بہت رشتہ داریاں بھی تھیں اور طائف اور مکہ کے درمیان کے سرسبز مقامات میں مکہ والوں کی جائدادیں بھی تھیں۔جب آپ طائف پہنچے تو وہاں کے رؤساء آپ سے ملنے کے لئے آنے شروع ہوئے لیکن کوئی شخص حق کو قبول کرنے کے لئے تیار نہ ہوا۔عوام الناس نے بھی اپنے رؤساء کی اتباع کی اور خدا کے پیغام کو حقارت کی نگاہ سے دیکھا۔دنیا داروں کی نگاہ میں بے سامان اور بے مددگار نبی حقیر