نبیوں کا سردار ﷺ — Page 40
۴۰ نبیوں کا سردار اپنی قوم کو مخاطب کر کے انہیں ملامت کی کہ ان کا یہ لمبا ظلم کس طرح جائز ہو سکتا ہے۔ان پانچ شریف انسانوں کی بغاوت فوراً بجلی کی طرح شہر میں پھیل گئی۔فطرتِ انسانی نے پھر سراُٹھانا شروع کیا۔نیکی کی روح نے پھر ایک دفعہ سانس لیا اور مکہ کے لوگ اس شیطانی معاہدہ کو توڑنے پر مجبور ہوئے لیے معاہدہ تو ختم ہو گیا مگر تین سالہ فاقوں نے اپنا اثر دکھانا شروع کیا۔تھوڑے ہی دنوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفا شعار بیوی حضرت خدیجہ اس مقاطعہ کے دنوں کی تکلیفوں کے نتیجہ میں فوت ہو گئیں اور اس کے ایک مہینہ بعد ابو طالب بھی اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔حضرت خدیجہ اور ابو طالب کی وفات کے بعد تبلیغ میں رُکاوٹیں اور آنحضرت ﷺ کا سفر طائف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ اب ابوطالب کے مصالحانہ اثر سے محروم ہو گئے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گھر یلو زندگی کی ساتھی حضرت خدیجہ بھی آپ سے جدا ہوگئیں۔ان دونوں کی وفات سے طبعی طور پر اُن لوگوں کی ہمدردیاں بھی آپ سے اور آپ کے صحابہ سے کم ہو گئیں جو ان کے تعلقات کی وجہ سے ظالموں کو ظلم سے روکتے رہتے تھے۔ابوطالب کی وفات کے تازہ صدمہ کی وجہ سے اور ابو طالب کی وصیت کی وجہ سے چند دن آپ کے شدید دشمن اور ابوطالب کے چھوٹے بھائی ابولہب نے آپ کا ساتھ دیا۔لیکن جب مکہ والوں نے اس کے جذبات کو یہ کہہ کر بھارا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) تو تمام اُن لوگوں کو جو توحید الہی کے قائل نہیں مجرم اور قابل سزا سمجھتا ہے تو اپنے آباء کی سیرت ابن هشام جلد ۲ صفحہ ۱۴ تا ۱۷۔مطبوعہ ۱۹۳۶