نبیوں کا سردار ﷺ — Page 39
۳۹ نبیوں کا سردار مسلمانوں سے مقاطعہ غرض ظلم اب حد سے باہر ہوتے جارہے تھے۔کچھ لوگ مکہ چھوڑ کر چلے گئے تھے اور جو باقی تھے وہ پہلے سے بھی زیادہ ظلموں کا شکار ہونے لگے تھے مگر ظالموں کے دل ابھی ٹھنڈے نہ ہوئے تھے، جب انہوں نے دیکھا کہ ہمارے گزشتہ ظلموں۔مسلمانوں کے دل نہیں ٹوٹے۔ان کے ایمانوں میں تزلزل واقعہ نہیں ہوا بلکہ وہ خدائے واحد کی پرستش میں اور بھی بڑھ گئے اور بڑھتے چلے جا رہے ہیں اور بتوں سے ان کی نفرت ترقی ہی کرتی چلی جاتی ہے تو انہوں نے پھر ایک مجلس شوری قائم کی اور فیصلہ کر دیا کہ مسلمانوں کے ساتھ گلی طور پر مقاطعہ کر دیا جائے۔کوئی شخص سودا اُن کے پاس فروخت نہ کرے۔کوئی شخص ان کے ساتھ لین دین نہ کرے۔اُس وقت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چند تبعین اور ان کے بیوی بچوں سمیت اور اپنے چند ایسے رشتہ داروں کے ساتھ جو باوجود اسلام نہ لانے کے آپ کا ساتھ چھوڑنے کے لئے تیار نہ تھے ایک الگ مقام میں جو ابو طالب کی ملکیت تھا پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ان لوگوں کے پاس نہ روپیہ تھا نہ سامان نہ ذخائر جن کی مدد سے وہ جیتے۔وہ اس تنگی کے زمانہ میں جن حالات میں سے گزرے ہوں گے ان کا اندازہ لگانا دوسرے انسان کے لئے ممکن نہیں۔قریباً تین سال تک یہ حالات اسی طرح قائم رہے اور مکہ کے مقاطعہ کے فیصلہ میں کوئی کمزوری پیدا نہ ہوئی۔قریباً تین سال کے بعد مکہ کے پانچ شریف آدمیوں کے دل میں اس ظلم کے خلاف بغاوت پیدا ہوئی۔وہ شعب ابی طالب کے دروازہ پر گئے اور محصورین کو آواز دے کر کہا کہ وہ باہر نکلیں اور کہ وہ اس مقاطعہ کے معاہدہ کو توڑنے کے لئے بالکل تیار ہیں۔ابو طالب جو اس لمبے محاصرہ اور فاقوں کی وجہ سے کمزور ہورہے تھے باہر آئے اور