نبیوں کا سردار ﷺ — Page 38
۳۸ نبیوں کا سردار میں اس کے ظاہر کرنے کے سامان پیدا کر رہا ہوں جن کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ہر ایک جان کو جیسے جیسے وہ کام کرتی ہے اس کے مطابق بدلہ مل جائے گا۔حضرت عمر جب اس آیت پر پہنچے تو بے اختیار ان کے منہ سے نکل گیا یہ کیسا عجیب اور پاک کلام ہے۔خباب نے جب یہ الفاظ سنے تو وہ اس جگہ سے جہاں چھپے ہوئے تھے باہر نکل آئے اور کہا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی دعا کا نتیجہ ہے۔مجھے خدا کی قسم ! میں نے کل ہی آپ کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا تھا کہ الہی ! عمر بن الخطاب یا عمر بن ہشام میں سے کسی ایک کو اسلام کی طرف ضرور ہدایت بخش۔عمر کھڑے ہو گئے اور کہا مجھے بتاؤ کہ محد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کہاں ہیں؟ جب آپ کو بتایا گیا کہ آپ دار ارقم میں رہتے ہیں تو آپ اُسی طرح جنگی تلوار لیے ہوئے وہاں پہنچے اور دروازہ پر دستک دی۔صحابہ نے دروازہ کی دراڑوں میں سے دیکھا تو انہیں عمر ننگی تلوار لئے کھڑے نظر آئے۔وہ ڈرے کہ ایسا نہ ہو دروازہ کھول دیں تو عمر اندر آ کر کوئی فساد کریں۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، ہوا کیا ؟ دروازہ کھول دو۔عمر اسی طرح تلوار لیے اندر داخل ہوئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے اور فرمایا عمر ! کس ارادہ سے آئے ہو؟ عمر نے کہا یا رسول اللہ میں مسلمان ہونے آیا ہوں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر بلند آواز سے اللہ اکبر کہا یعنی اللہ سب سے بڑا ہے اور آپ کے سب ساتھیوں نے بھی یہی الفاظ زور سے دُہرائے یہاں تک کہ مکہ کی پہاڑیاں گونج اٹھیں لے اور تھوڑی ہی دیر میں یہ خبر مکہ میں آگ کی طرح پھیل گئی اور عمر سے بھی وہی سختی کا برتاؤ ہونا شروع ہو گیا جو پہلے دوسرے صحابہؓ سے ہوتا تھا۔مگر وہی عمر جو پہلے مارنے اور قتل کرنے میں مزہ اُٹھایا کرتے تھے اب مار کھانے اور پیٹے جانے میں لذت حاصل کرنے لگے۔چنانچہ خود عمر کا بیان ہے کہ ایمان لانے کے بعد میں مکہ کی گلیوں میں ماریں ہی کھاتا رہتا تھا۔لے اسد الغابۃ جلد ۴ صفحه ۵۵ - مطبوعہ ریاض ۱۲۸۶ھ