نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 318 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 318

۳۱۸ نبیوں کا سردار اپنی جماعت کی ترقی کی خواہش اس کے دل میں ہومگر فخر اور کبر پیدا نہ ہو۔جانوروں سے حسن سلوک آپ جانوروں تک پر ظلم کو سخت نا پسند فرماتے تھے۔آپ فرمایا کرتے تھے بنی اسرائیل میں ایک عورت کو اس لئے عذاب ملا کہ اس نے اپنی بلی کو بھوکا ماردیا تھا۔اسی طرح فرماتے تھے پہلی امتوں میں سے ایک شخص اس لئے بخشا گیا کہ اُس نے ایک پیاسا کتا دیکھا پاس ایک گہرا گڑھا تھا جس میں سے کتا پانی نہیں پی سکتا تھا۔اُس آدمی نے اپنا بوٹ پاؤں سے کھولا اور گڑھے میں اُس بوٹ کولٹکا کر اس کے ذریعہ پانی نکالا اور کتے کو پلا دیا۔اس نیکی کی وجہ سے خدا تعالیٰ نے اُس کے تمام گزشتہ گناہ بخش دیئے لے حضرت عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم آپ کے ساتھ سفر پر جار ہے تھے کہ ہم نے ایک فاختہ کے دو بچے دیکھے بچے ابھی چھوٹے تھے ہم نے وہ بچے پکڑ لئے جب فاختہ واپس آئی تو وہ چاروں طرف گھبرا کر اڑنے لگی اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اُس مجلس میں تشریف لے آئے اور آپ نے فرمایا۔اس جانور کو اس کے بچوں کی وجہ سے کس نے تکلیف دی؟ فوراً اس کے بچوں کو چھوڑ دو تا کہ اس کی دلجوئی ہو جائے۔کے اسی طرح حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم نے چیونٹیوں کا ایک غار د یکھا اور ہم نے پھونس ڈال کر اُسے جلا دیا۔اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے ایسا کیوں کیا ؟ ایسا کرنا مناسب نہیں۔بخاری کتاب المظالم باب الابار على الطرق +بخارى كتاب الادب باب رحمة الناس و البهائم ے سے ابو داؤد كتاب الجهاد باب فى كراهية حرق العدو + ابو داؤد کتاب الادب باب في قتل الزر