نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 319 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 319

۳۱۹ نبیوں کا سردار ایک دفعہ آپ نے دیکھا کہ ایک گدھے کے منہ پر نشان لگایا جارہا ہے۔آپ نے فرما یا ایسا نشان کیوں لگا رہے ہو؟ لوگوں نے کہا کہ رومی لوگوں میں اعلیٰ گدھوں کی پہچان کے لئے نشان لگایا جاتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم ایسا مت کیا کرو۔منہ جسم کا نازک حصہ ہے۔اگر نشان لگانا ہی پڑے تو جانور کی پیٹھ پر نشان لگا دیا کرو۔چنانچہ اُسی وقت سے مسلمان جانور کی پیٹھ پر نشان لگاتے ہیں اور اب اُن کی دیکھا دیکھی یورپ والے بھی پیٹھ پر ہی نشان لگاتے ہیں۔مذہبی رواداری آپ مذہبی رواداری پر نہایت زور دیتے تھے اور خود بھی اعلیٰ درجہ کا نمونہ اس بارہ میں دکھاتے تھے۔یمن کا ایک عیسائی قبیلہ آپ سے مذہبی تبادلہ خیال کرنے کے لئے آیا۔جس میں اُن کے بڑے بڑے پادری بھی تھے۔مسجد میں بیٹھ کر گفتگو شروع ہوئی اور گفتگو لبی ہوگئی۔اس پر اس قافلہ کے پادری نے کہا اب ہماری نماز کا وقت ہے ہم باہر جا کر اپنی نماز ادا کر آئیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا باہر جانے کی کیا ضرورت ہے ہماری مسجد میں ہی اپنی نماز ادا کر لیں۔آخر ہماری مسجد خدا کے ذکر ہی کے لئے بنائی گئی ہے۔لے بہادری آپ کی بہادری کے کئی واقعات آپ کی سوانح میں بیان ہو چکے ہیں۔ایک واقعہ اس جگہ بھی لکھ دیتا ہوں۔جب مدینہ میں یہ خبریں مشہور ہونی شروع ہوئیں کہ روما کی حکومت ایک بڑ الشکر مدینہ پر حملہ کرنے کے لئے بھجوا رہی ہے تو مسلمان خاص طور پر راتوں کو احتیاط زرقانی جلد ۴ صفحه ۴۱