نبیوں کا سردار ﷺ — Page 317
۳۱۷ نبیوں کا سردار ڈھیر دیکھا جو نیلام ہورہا تھا۔آپ نے اپنا ہاتھ غلہ کے ڈھیر میں ڈالا تو معلوم ہوا کہ باہر کی طرف سے تو غلہ سُوکھا ہوا ہے مگر اندر کی طرف سے گیلا ہے۔آپ نے اپنا ہاتھ نکال کر غلہ والے سے کہا کہ یہ کیا بات ہے۔اس نے کہا۔يَارَسُولَ اللہ ! بارش کا چھینٹا آ گیا تھا جس سے غلہ گیلا ہو گیا۔آپ نے فرمایا ٹھیک ہے مگر تم نے گیلا حصہ باہر کیوں نہ رکھا تا کہ لوگوں کو معلوم ہوجاتا۔پھر فرما یا جوشخص دوسرے لوگوں کو دھوکا دیتا ہے وہ جماعت کا مفید وجود نہیں ہو سکتا ہے آپ بڑی تاکید سے فرماتے تھے کہ تجارت میں بالکل دھوکا نہیں ہونا چاہئے اور بغیر دیکھے کے کوئی چیز نہیں لینی چاہئے اور سودے پر سودا نہیں کرنا چاہئے اور سامان کو اس لئے روک نہیں رکھنا چاہئے کہ جب اس کی قیمت بڑھ جائے گی تو اس کو فروخت کریں گے۔بلکہ حاجتمندوں کو ساتھ کے ساتھ چیزیں دیتے رہنا چاہئے۔مایوسی آپ مایوسی کی روح کے سخت خلاف تھے۔فرماتے تھے جوشخص قوم میں مایوسی کی باتیں کرتا ہے وہ قوم کی ہلاکت کا ذمہ دار ہوتا ہے لے کیونکہ بعض ایسی باتوں کے پھیلنے سے قوم کی ہمت ٹوٹ جاتی ہے اور پستی کی طرف مائل ہونا شروع ہو جاتی ہے جس طرح فخر اور کبر سے آپ رو کتے تھے کہ یہ چیزیں بھی در حقیقت قوم کو پستی کی طرف لے جاتی ہیں آپ کا حکم تھا کہ ان دونوں کے درمیان راستہ ہونا چاہئے۔نہ انسان فخر اور کبر کا راستہ اختیار کرے اور نہ مایوسی اور نا امیدی کا راستہ اختیار کرے بلکہ کام کرے مگر نتیجہ کی امید خدا تعالیٰ پر ہی رکھے۔ترمذی ابواب البيوع باب ما جاء في كراهية الغش في البيوع ے مسلم كتاب البر و الصلة باب النهي عن قول هلك الناس