نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 309 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 309

۳۰۹ نبیوں کا سردار اپنی بات دُہرائی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اُس کی طرف توجہ نہ کی اور دوسری طرف منہ پھیر لیا۔پھر وہ شخص اُس طرف آکھڑا ہوا جس طرف آپ کا منہ تھا اور پھر اُس نے چوتھی دفعہ وہی بات کہی۔تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تو چاہتا تھا کہ یہ اپنے گناہ کی آپ تشہیر نہ کرے جب تک خدا اس کی گرفت کا فیصلہ نہیں کرتا مگر اس نے چار دفعہ اپنے نفس پر خود ہی گواہی دی ہے اس لئے اب میں مجبور ہوں لے پھر فرمایا اس شخص نے اپنے آپ پر الزام لگایا ہے۔اُس عورت نے الزام نہیں لگایا جس کے متعلق یہ زنا کا دعویٰ کرتا ہے اُس عورت سے پوچھو۔اگر وہ انکار کرے تو اُسے کچھ مت کہو اور صرف اس کو اس کے اپنے اقرار کے مطابق سزا دو۔لیکن اگر وہ عورت بھی اقرار کرے تو پھر اُسے بھی سزا دو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریق تھا کہ جن امور کے متعلق قرآنی تعلیم نازل نہ ہو چکی ہوتی تھی اُن میں آپ تو رات کی تعلیم پر عمل کر لیتے تھے۔تورات کے حکم کے مطابق زانی کے لئے سنگساری کا حکم ہے۔چنانچہ آپ نے بھی اُس شخص کے سنگسار کئے جانے کا حکم دیا۔جب لوگ اُس پر پتھر پھینکنے لگے تو اُس نے بھاگنا چاہا، لیکن لوگوں نے دوڑ کر اُس کا تعاقب کیا اور تورات کی تعلیم کے مطابق اُسے قتل کر دیا۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا علم ہوا تو آپ نے اس کو نا پسند فرمایا۔آپ نے فرمایا اُس کو سزا اُس کے اقرار کے مطابق دی گئی۔جب وہ بھاگا تھا تو اُس نے اپنا اقرار واپس لے لیا تھا اس لئے تمہارا کوئی حق نہ تھا کہ اُس کے بعد اُس کو سنگسار کرتے اُس کو چھوڑ دینا چاہیے تھا۔کے آپ ہمیشہ حکم دیتے تھے کہ شریعت کا نفاذ ظاہر پر ہونا چاہئے۔ایک دفعہ ایک جنگ پر کچھ صحابہ گئے ہوئے تھے راستہ میں ایک مشرک اُنہیں ایسا ملا جو ادھر اُدھر جنگل میں چھپا پھرتا تھا اور جب کبھی اُسے کوئی اکیلا مسلمان مل جاتا تو اُس پر حملہ کر کے وہ اُسے مار ، ترمذی ابواب الحدود باب ماجاء في درء الحد عن المعترف (الخ)