نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 308 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 308

۳۰۸ نبیوں کا سردار اے فلانے ! میں نے رات کو یہ کام کیا تھا، اسے فلانے! میں نے رات کو یہ کام کیا تھا۔رات کو خدا اُس کے گناہ پر پردہ ڈال رہا تھا صبح یہ اپنے گناہ کو آپ نگا کرتا ہے۔لے بعض لوگ نادانی سے یہ سمجھتے ہیں کہ گناہ کا اظہار تو بہ پیدا کرتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ گناہ کا اظہار تو بہ پیدا نہیں کرتا، گناہ کا اظہار بے حیائی پیدا کرتا ہے۔گناہ بہر حال بُرا ہے مگر جو لوگ گناہ کرتے ہیں اور اُن کے دل میں شرم اور ندامت محسوس ہوتی ہے اُن کے لئے تو بہ کا راستہ کھلا رہتا ہے اور تقویٰ اُن کے پیچھے پیچھے چلا آ رہا ہوتا ہے۔کوئی نہ کوئی نیک موقع ایسا آجاتا ہے کہ تقویٰ غالب آجاتا ہے اور گناہ بھاگ جاتا ہے۔مگر جولوگ اپنے گناہوں کو پھیلاتے اور ان پر فخر کرتے ہیں ان کے دل سے احساس گناہ بھی مٹ جاتا ہے اور جب احساس گناہ بھی مٹ جائے تو پھر تو بہ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور اُس نے کہا۔يَا رَسُولَ اللہ ! میں نے زنا کیا ہے۔زنا اسلام میں تعزیری جرائم میں سے ہے یعنی اسلامی شریعت جہاں جاری ہو وہاں ایسے شخص کو جس کا زنا اسلامی اصول کے مطابق ثابت ہو جائے جسمانی سزا دی جاتی ہے۔جب اُس نے کہا۔يَا رَسُولَ اللہ ! میں نے زنا کیا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کی طرف سے منہ پھیر لیا اور دوسری طرف باتوں میں مشغول ہو گئے۔در حقیقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اُس کو یہ بتا رہے تھے کہ جس گناہ پر خدا نے پردہ ڈال دیا ہے اس کا علاج تو بہ ہے اس کا علاج اعلان نہیں۔مگر وہ اس بات کو نہ سمجھا اور یہ خیال کیا کہ شاید رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری بات کو سنا نہیں اور جس طرف آپ کا منہ تھا اُدھر کھڑا ہو گیا اور پھر اُس نے کہا يَا رَسُولَ اللہ ! میں نے زنا کیا ہے۔پھر آپ نے دوسری طرف منہ کر لیا۔پھر بھی وہ نہ سمجھا اور دوسری طرف آکر اُس نے پھر بخاری کتاب الادب باب ستر المو من على نفسه