نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 310 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 310

۳۱۰ نبیوں کا سردار ڈالتا۔اُسامہ بن زید نے اس کا تعاقب کیا اور ایک موقع پر جا کر اُسے پکڑ لیا اور اسے مارنے کے لئے تلوار اُٹھائی۔جب اُس نے دیکھا کہ اب میں قابو آ گیا ہوں تو اُس نے کہا لا إله إلا اللہ جس سے اُس کا مطلب یہ تھا کہ میں مسلمان ہوتا ہوں مگر اُسامہ نے اُس کے اس قول کی پرواہ نہ کی اور اُسے مار ڈالا۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس لڑائی کی خبر دینے کے لئے ایک شخص مدینہ پہنچا تو اس نے لڑائی کے سب احوال بیان کرتے کرتے یہ واقعہ بھی بیان کیا۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسامہ کو بلوایا اور اُن سے پوچھا کہ کیا تم نے اُس آدمی کو مار دیا تھا ؟ اُنہوں نے کہا ہاں۔آپ نے فرمایا قیامت کے دن کیا کرو گے جب لا اله الا اللہ تمہارے خلاف گواہی دے گا۔یعنی خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ سوال کیا جائے گا کہ جب اُس شخص نے لا إلهَ إِلَّا اللہ کہا تھا تو پھر تم نے کیوں مارا؟ گو وہ قاتل تھا مگر تو بہ کر چکا تھا۔حضرت اسامہ نے کئی دفعہ جواب میں کہا کہ يَارَسُول الله! وہ تو ڈر کے مارے ایمان ظاہر کر رہا تھا۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو نے اُس کا دل چیر کر دیکھ لیا تھا کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے؟ اور پھر بار بار یہی کہتے چلے گئے کہ تم قیامت کے دن کیا جواب دو گے جب اُس کا لا إِلهَ إِلَّا اللهُ تمہارے سامنے پیش کیا جائے گا۔اُسامہ کہتے ہیں اُس وقت میرے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ کاش! میں آج ہی اسلام لایا ہوتا اور یہ حرکت مجھ سے سرزد نہ ہوئی ہوتی ہے گناہوں کی معافی کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اتنا احساس تھا کہ جب کچھ لوگوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی حضرت عائشہ پر اتہام لگایا اور ان اتہام لگانے والوں میں ایک ایسا شخص بھی تھا جس کو حضرت ابوبکر پال رہے تھے۔جب یہ الزام جھوٹا ثابت ہوا تو حضرت ابوبکر نے غصہ میں اُس شخص کی پرورش بند کر دی جس شخص نے آپ کی مسلم کتاب الایمان باب تحریم قتل الكافر (الخ)