نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 280 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 280

۲۸۰ نبیوں کا سردار خیال کرو۔ایسا اکثر ہوتا رہتا تھا۔مگر دیکھنے والے بتاتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ کبھی شکوہ کیا نہ آپ کے چہرہ پر بھی ملال ظاہر ہوا نہ کبھی اپنے چیرے بھائیوں سے رقابت پیدا ہوئی ہے چنانچہ آپ کی زندگی بتاتی ہے کہ کس طرح آپ نے بعد کے بدلے ہوئے حالات میں حضرت علی اور حضرت جعفر" کو اپنی تربیت میں لے لیا اور ہر طرح سے ان کی بہتری کی تدابیر کیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی دُنیوی لحاظ سے نہایت ہی تلخ طور پر گزری ہے۔پیدائش سے پہلے ہی اپنے والد کی وفات پھر والدہ اور دادا کی یکے بعد دیگرے وفات، پھر شادی ہوئی تو آپ کے بچے متواتر فوت ہوتے چلے گئے اس کے بعد پے در پے آپ کی کئی بیویاں فوت ہوئیں جن میں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا جیسی باوفا اور خدمت گزار بیوی بھی تھیں۔مگر آپ نے یہ سب مصائب خوشی سے برداشت کئے اور ان غموں نے نہ آپ کی کمر توڑی نہ آپ کی خوش مزاجی پر کوئی اثر ڈالا۔دل کے زخم کبھی آنکھوں سے نہیں رہے۔چہرہ ہر ایک کے لئے بشاش ہی رہا اور شاذ و نادر ہی کسی موقع پر آپ نے اس درد کا اظہار کیا۔ایک دفعہ ایک عورت جس کا لڑکا فوت ہو گیا تھا اپنے لڑکے کی قبر پر ماتم کر رہی تھی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے گزرے تو آپ نے فرمایا۔اے عورت! صبر کر۔خدا کی مشیت ہر ایک پر غالب ہے۔وہ عورت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچانتی نہ تھی اس نے جواب دیا جس طرح میرا بچہ مرا ہے تمہارا بچہ بھی مرتا تو تمہیں معلوم ہوتا کہ صبر کیا چیز ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم صرف یہ کہ کر وہاں سے آگے چل دیئے۔ایک نہیں ل السيرة الحلبية جلد ۱ صفحه ۱۳۸ مطبوعہ مصر ۱۹۳۲ء