نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 281 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 281

۲۸۱ نبیوں کا سردار میرے تو سات بچے فوت ہو چکے ہیں اے پس اس قسم کے موقع پر اتنا اظہار تھا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گزشتہ مصائب پر کبھی کر دیتے تھے ورنہ بنی نوع انسان کی خدمت میں کوئی کوتاہی ہوئی نہ آپ کی بشاشت میں کوئی فرق آیا۔متحمل متحمل آپ میں اس قدر تھا کہ اُس زمانہ میں بھی کہ آپ کو خدا تعالیٰ نے بادشاہت عطا فرما دی تھی آپ ہر ایک کی بات سنتے۔اگر وہ سختی بھی کرتا تو آپ خاموش ہو جاتے اور کبھی سختی کرنے والے کا جواب سختی سے نہ دیتے۔مسلمان رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے نام کی بجائے آپ کے روحانی درجہ سے پکارتے تھے یعنی يَا رَسُولَ اللہ ! کہ کر بلاتے تھے اور غیر مذاہب کے لوگ ایشیائی دستور کے مطابق آپ کا ادب اور احترام اس طرح کرتے تھے کہ بجائے آپ کو محمد کہہ کر بلانے کے ابوالقاسم کہہ کر بلاتے تھے جو آپ کی کنیت تھی ( ابو القاسم کے معنی ہیں قاسم کا باپ۔قاسم آپ کے ایک بیٹے کا نام تھا) ایک دفعہ ایک یہودی مدینہ میں آیا اور اس نے آپ سے آکر بحث شروع کر دی۔بحث کے دوران میں وہ بار بار کہتا تھا۔اے محمد ! بات یوں ہے، اے محمد ! بات یوں ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بغیر کسی انقباض کے اس کی باتوں کا جواب دیتے تھے۔مگر صحابہ اُس کی یہ گستاخی دیکھ کر بیتاب ہور ہے تھے۔آخر ایک صحابی سے نہ رہا گیا اور اُس نے یہودی سے کہا کہ خبردار! آپ کا نام لے کر بات نہ کرو تم رسول اللہ نہیں کہہ سکتے تو کم سے کم ابوالقاسم کہو۔یہودی نے کہا میں تو وہی بخاری کتاب الاحکام باب ذكر ان النبی ﷺ لم یکن له بواب+ ابو داؤد کتاب الجنائز باب الصبر عند الصدمة