نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 270 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 270

۲۷۰ نبیوں کا سردار رہے بلکہ بڑی سختی سے آپ نے اس کی تردید کی اور فرمایا۔چاند اور سورج تو خدا تعالیٰ کے مقرر کردہ قانون کو ظاہر کرنے والی ہستیاں ہیں ان کا کسی بڑے یا چھوٹے انسان کی موت یا زندگی کے ساتھ کیا تعلق ہے۔لا جب کوئی شخص عرب کے محاورہ کے مطابق یہ کہہ دیتا کہ فلاں ستارہ کے فلاں بُرج میں ہونے کی وجہ سے ہم پر بارش نازل ہوئی ہے تو آپ کا چہرہ متغیر ہو جاتا اور آپ فرماتے اے لوگو! خدا تعالیٰ کی نعمتوں کو دوسروں کی طرف کیوں منسوب کرتے ہو۔بارشیں وغیرہ سب خدا تعالیٰ کے مقرر کردہ قانون کے مطابق ہوتی ہیں کسی دیوی دیوتا کی یا کسی اور روحانی طاقت کی مہربانی اور بخشش کے ساتھ نازل نہیں ہوا کرتیں۔سے اللہ تعالیٰ پر توکل اللہ تعالی پر توکل کا یہ حال تھا کہ جب ایک شخص نے اکیلا پا کر آپ پر تلوارا بھائی اور آپ سے پوچھا اب کون تم کو مجھ سے بچا سکتا ہے؟ اُس وقت باوجود اس کے کہ آپ بے ہتھیار تھے اور بوجہ لیٹے ہوئے ہونے کے حرکت بھی نہیں کر سکتے تھے۔آپ نے نہایت اطمینان اور سکون سے جواب دیا اللہ یہ لفظ اس یقین اور وثوق سے آپ کے منہ سے نکلا کہ اُس کافر کا دل بھی آپ کے ایمان کی بلندی اور آپ کے یقین کے کامل ہونے کو تسلیم کئے بغیر نہ رہ سکا اور اس کے ہاتھ سے تلوار گر گئی اور وہ جو آپ کو قتل کرنے کے لئے آیا تھا آپ کے سامنے مجرموں کی طرح کھڑا ہو گیا۔۳؎ بخاری کتاب الكسوف باب الصلوة في كسوف الشمس مسلم کتاب الایمان باب بیان كفر من قال مطر نابنوء سے مسلم کتاب الفضائل باب تو کله على الله تعالى (الخ)