نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 271 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 271

۲۷۱ نبیوں کا سردار اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں انکساری کی یہ حد تھی کہ جب آپ سے لوگوں نے کہا یا رَسُول اللہ ! آپ تو اپنے عمل کے زور سے خدا تعالیٰ کے فضل کو حاصل کر لیں گے تو آپ نے فرمایا نہیں! نہیں!! میں بھی خدا کے احسان سے ہی بخشا جاؤں گا۔چنانچہ حضرت ابوہریرہ بیان فرماتے ہیں میں نے ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔آپ فرما رہے تھے کوئی شخص اپنے عملوں سے جنت میں داخل نہیں ہوگا۔میں نے کہا یا رسُول الله! کیا آپ بھی اپنے اعمال سے جنت میں داخل نہیں ہوں گے؟ آپ نے فرمایا میں بھی اپنے اعمال کے زور سے جنت میں داخل نہیں ہوسکتا۔ہاں خدا کا فضل اور اُس کی رحمت مجھے ڈھانک لے تو یہی ایک صورت ہے لے پھر آپ نے فرمایا اپنے کاموں میں نیکی اختیار کرو اور خدا تعالیٰ کے قرب کی راہیں تلاش کرو اور تم میں سے کوئی شخص اپنی موت کی خواہش نہ کیا کرے۔کیونکہ اگر وہ نیک ہے تو زندہ رہ کر اپنی نیکیوں میں اور بھی بڑھ جائے گا اور اگر بد ہے تو زندہ رہ کر اپنے گنا ہوں سے تو بہ کرنے کی توفیق مل جائے گی۔سے خدا تعالیٰ کی محبت کی یہ حالت تھی کہ جب ایک وقفہ کے بعد بادل آتے تو آپ اپنی زبان پر بارش کا قطرہ لے لیتے اور فرماتے۔دیکھو! میرے رب کی تازہ نعمت اسے جب مجلس میں بیٹھتے تو استغفار کرتے رہتے اور یوں بھی اکثر استغفار کرتے تاکہ آپ کی اُمت اور آپ کے ساتھ تعلق رکھنے والے خدا تعالیٰ کے غضب سے بچے رہیں اور اُس کی بخشش کے مستحق ہو جائیں کے ہر وقت خدا تعالیٰ کے سامنے حاضر ہونے کی یاد کو بخاری کتاب الرقاق باب القصد و المداومة على العمل بخاری کتاب التمني باب ما يكره من التمني (الخ) ابو داؤد ابواب النوم باب فى المطر بخاری کتاب الدعوات باب استغفار النبی صلی اللہ علیہ وسلم (الخ)