نبیوں کا سردار ﷺ — Page 261
دروازہ بند کر لیا ہے ۲۶۱ نبیوں کا سردار شاید رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوہریرہ کو سب کے آخر میں دودھ یہی سبق دینے کے لئے دیا تھا کہ انہیں خدا تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے فاقہ سے بیٹھ رہنا چاہئے تھا اور اشارۃ بھی سوال نہیں کرنا چاہئے تھا۔آپ ہمیشہ دائیں ہاتھ سے کھانا کھاتے تھے اور پانی بھی دائیں ہاتھ سے پیتے تھے۔پانی پیتے وقت درمیان میں تین دفعہ سانس لیتے تھے۔اس میں ایک طبی حکمت ہے۔پانی اگر یکدم پیا جائے تو زیادہ پیا جاتا ہے اور اس سے معدہ خراب ہو جاتا ہے۔کھانے کے متعلق آپ کا اصول یہ تھا کہ جو چیز میں پاکیزہ اور طیب ہوں وہ کھائیں۔مگر ایسی طرز پر نہیں کہ غریبوں کا حق مارا جائے یا انسان کو تعیش کی عادت پڑ جائے۔چنانچہ عام طور پر جیسا کہ بتایا جا چکا ہے آپ کی خوراک نہایت سادہ تھی۔لیکن اگر کوئی شخص کوئی اچھی چیز بطور تحفہ لے آتا تھا تو آپ اس کے کھانے سے انکار نہ کرتے۔مگر یوں اپنے کھانے پینے کے لئے اچھے کھانے کی تلاش آپ کبھی نہیں کرتے تھے۔شہد آپ کو پسند تھا اسی طرح کھجور بھی۔آپ فرماتے تھے کھجور اور مؤمن کے درمیان ایک رشتہ ہے کھجور کے پتے بھی اور اُس کا چھلکا بھی اور اُس کا کچا پھل بھی اور اس کا پکا پھل بھی اور اس کی گٹھلی بھی سب کے سب کارآمد ہیں اس کی کوئی چیز بھی بیکار نہیں۔مؤمن کا مل بھی ایسا ہی ہوتا ہے اس کا کوئی کام بھی لغو نہیں ہوتا بلکہ اس کا ہر کام بنی نوع انسان کے نفع کے لئے ہوتا ہے۔بخاری کتاب الرقاق باب كيف كان عيش النبی ﷺ و اصحابه (الخ) بخاری کتاب العلم باب طرح الامام المسألة (الخ) + بخاری کتاب الاطعمة باب بركة النخلة۔