نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 262 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 262

۲۶۲ نبیوں کا سردار لباس اور زیور میں سادگی اور تقویٰ لباس کے متعلق بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نہایت سادگی کو پسند فرماتے تھے آپ کا عام لباس گر تہ اور تہ بند یا گر نہ اور پاجامہ ہوتا تھا۔آپ اپنا تہ بند یا پاجامہ ٹخنوں سے اُو پر اور گھٹنوں سے نیچے رکھتے تھے۔گھٹنوں یا گھٹنوں سے او پر جسم کے ننگے ہو جانے کو آپ پسند نہیں فرماتے تھے سوائے مجبوری کے۔ایسا کپڑا جس پر تصویریں ہوں آپ پسند نہیں فرماتے تھے۔نہ انسانی لباس میں اور نہ پردوں وغیرہ کی صورت میں۔خصوصاً بڑی تصویر میں جو کہ شرک کے آثار میں سے ہیں اُن کی آپ کبھی اجازت نہیں دیتے تھے۔ایک دفعہ آپ کے گھر میں ایسا کپڑا لٹکا ہوا تھا آپ نے دیکھا تو اُسے اُتروا دیا ہاں چھوٹی چھوٹی تصویر جس کپڑے پر بنی ہوئی ہوں اُس کپڑے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کیونکہ ان سے شرک کے خیالات کی طرف اشارہ نہیں ہوتا۔آپ ریشمی کپڑ ابھی نہیں پہنتے تھے نہ دوسرے مردوں کو ریشمی کپڑا پہنے کی اجازت دیتے تھے۔بادشاہوں کو خط لکھنے کے وقت آپ نے ایک مہر والی انگوٹھی اپنے لئے بنوائی تھی مگر آپ نے ارشاد فرمایا تھا کہ سونے کی انگوٹھی نہ ہو بلکہ چاندی کی ہو کیونکہ سونا خدا تعالیٰ نے میری اُمت کے مردوں کے لئے پہننا منع فرمایا ہے۔عورتوں کو بیشک ریشمی کپڑے اور زیور پہننے کی اجازت تھی اس بارہ میں آپ نصیحت کرتے رہتے تھے کہ غلو نہ کیا جائے۔ایک دفعہ غرباء کے لئے آپ نے چندہ کیا۔ایک عورت نے ایک کڑا اُتار کر آپ کے آگے رکھ دیا۔آپ نے فرمایا کیا دوسرا ہا تھ دوزخ سے بچنے کا مستحق نہیں؟ اُس عورت نے دوسرا کڑا اُتار کر بھی غرباء کے لئے دے دیا۔آپ کی بیویوں کے زیورات نہ ہونے کے بخاری کتاب اللباس باب ما وطئى من التصاوير