نبیوں کا سردار ﷺ — Page 260
۲۶۰ نبیوں کا سردار کوئی صورت نہیں تو وہ کہتے ہیں میں بالکل نڈھال ہو کر گرنے لگا کیونکہ اب زیادہ صبر کی مجھے میں طاقت نہیں تھی مگر میں نے ابھی دروازہ سے منہ نہیں موڑا تھا کہ میرے کان میں ایک نہایت ہی محبت بھری آواز آئی اور کوئی مجھے بلا رہا تھا۔ابوہریرہ! ابوہریرہ!! میں نے منہ موڑ اتو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر کی کھڑ کی کھولے کھڑے تھے اور مسکرا رہے تھے اور مجھے دیکھ کر آپ نے فرمایا۔ابوہریرہ! بھو کے ہو؟ میں نے کہا ہاں يَا رَسُولَ اللہ ! بھوکا ہوں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ہمارے گھر میں بھی کھانے کو کچھ نہیں تھا۔ابھی ایک شخص نے دودھ کا پیالہ بجھوایا ہے۔تم مسجد میں جاؤ اور دیکھو کہ شاید ہماری تمہاری طرح کے کوئی اور بھی مسلمان ہوں جن کو کھانے کی احتیاج ہو۔ابوہریرہ کہتے ہیں میں نے دل میں کہا میں تو اتنا بھوکا ہوں کہ اکیلا ہی اس پیالے کو پی جاؤں گا۔اب جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آدمی بھی بلانے کو کہا ہے تو پھر میرا حصہ تو بہت تھوڑا رہ جائے گا۔مگر بہر حال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم تھا مسجد کے اندر گئے تو دیکھا کہ چھ آدمی اور بیٹھے ہیں۔انہوں نے اُن کو بھی ساتھ لیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازہ کے پاس آئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے دودھ کا پیالہ اُن نئے آنے والے چھ آدمیوں میں سے کسی کے ہاتھ میں دے دیا اور کہا اس کو پی جاؤ۔جب اس نے دودھ پی کر پیالہ منہ سے الگ کیا تو آپ نے اصرار کیا کہ پھر پیو۔تیسری دفعہ اصرار کر کے اس کو دودھ پلایا۔اس طرح چھیوں آدمیوں کو آپ نے باری باری دودھ پلایا۔حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ ہر بار میں کہتا تھا کہ اب میں مرا۔میرا حصہ کیا بچے گا لیکن جب وہ چھٹیوں پی چکے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ پیالہ میرے ہاتھ میں دیا۔میں نے دیکھا کہ ابھی پیالہ میں بہت دودھ موجود تھا جب میں نے دودھ پیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھی اصرار کر کے تین دفعہ دودھ پلایا۔پھر میرا بچا ہوا دودھ خود پیا اور خدا تعالیٰ کا شکر کرتے ہوئے