نبیوں کا سردار ﷺ — Page 114
۱۱۴ نبیوں کا سردار بن ابی بن سلول سمجھا کہ ایسا موقع خدا نے مہیا کر دیا ہے۔اُس نے چاہا کہ آگ پر تیل ڈالے اور اہل مدینہ کو مخاطب کر کے کہا کہ ان مہاجرین پر تمہاری مہربانی حد سے بڑھ گئی ہے اور تمہارے نیک سلوک سے اُن کے سر پھر گئے ہیں اور یہ دن بدن تمہارے سر پر چڑھتے جاتے ہیں۔قریب تھا کہ اس تقریر کا وہی اثر ہوا ہوتا جو عبداللہ چاہتا تھا اور جھگڑا شدت پکڑ جاتا مگر ایسا نہ ہوا۔عبداللہ نے اپنی شرانگیز تقریر کا اندازہ لگانے میں غلطی کی تھی اور یہ سمجھتے ہوئے کہ انصار پر اس کا اثر ہو گیا ہے، اُس نے یہاں تک کہہ دیا کہ ہم مدینہ میں واپس پہنچ لیں پھر جو معزز ترین انسان ہے وہ ذلیل ترین انسان کو باہر نکال دے گا۔معزز ترین انسان سے اُس کی مراد وہ خود تھا اور ارذل ترین سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نَعُوذُ بِاللهِ مِن ذَلِكَ )۔جو نہی یہ بات اُس کے منہ سے نکلی مؤمنوں پر اُس کی حقیقت کھل گئی اور انہوں نے کہا کہ یہ معمولی بات نہیں بلکہ یہ شیطان کا قول ہے جو ہمیں گمراہ کرنے آیا ہے۔ایک جوان آدمی اُٹھا اور اپنے چچا کے ذریعے اُس نے یہ خبر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچا دی۔آپ نے عبداللہ بن ابی بن سلول اور اُس کے دوستوں کو بلایا اور پوچھا کیا بات ہوئی ہے؟ عبداللہ نے اور اس کے دوستوں نے بالکل انکار کر دیا اور کہہ دیا کہ یہ واقعہ جو ہمارے ذمہ لگایا گیا ہے ہوا ہی نہیں۔آپ نے کچھ نہ کہا۔لیکن سچی بات پھیلنی شروع ہو گئی۔کچھ عرصہ کے بعد عبد اللہ بن ابی بن سلول کے بیٹے عبداللہ نے بھی یہ بات سنی۔وہ فوراً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا۔اے اللہ کے نبی! میرے باپ نے آپ کی ہتک کی ہے اُس کی سزا موت ہے اگر آپ یہی فیصلہ کریں تو میں پسند کرتا ہوں کہ آپ مجھے حکم دیں کہ میں اپنے باپ کو قتل کروں۔اگر آپ کسی اور کوحکم دیں گے اور میرا باپ اُس کے ہاتھوں مارا جائے گا تو ہوسکتا ہے کہ میں اُس آدمی کو قتل کر کے اپنے باپ کا بدلہ لوں اور اس طرح اللہ تعالیٰ کی ناراضگی مول لے لوں۔مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ