نبیوں کا سردار ﷺ — Page 115
۱۱۵ نبیوں کا سردار وسلم نے فرمایا۔میرا ہر گز ارادہ نہیں میں تمہارے والد کے ساتھ نرمی اور مہربانی کا سلوک کروں گا۔جب عبداللہ نے اپنے باپ کی بیوفائی اور درشت کلامی کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نرمی اور مہربانی سے مقابلہ کیا تو اس کا ایمان اور بڑھ گیا اور اپنے باپ کے خلاف اُس کا غصہ بھی اُسی نسبت سے ترقی کر گیا۔جب لشکر مدینہ کے قریب پہنچا تو اس نے آگے بڑھ کر اپنے باپ کا راستہ روک لیا اور کہا میں تم کو مدینہ کے اندر داخل نہیں ہونے دوں گا تا وقت یکہ تم وہ الفاظ واپس نہ لے لو جو تم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف استعمال کئے ہیں۔جس منہ سے یہ بات نکلی ہے کہ خدا کا نبی ذلیل ہے اور تم معزز ہواُسی منہ سے تم کو یہ بات کہنی ہوگی کہ خدا کا نبی معزز ہے اور تم ذلیل ہو۔جب تک تم یہ نہ کہو میں تمہیں ہرگز آگے نہ جانے دوں گا۔عبداللہ بن ابی بن سلول حیران اور خوفزدہ ہو گیا اور کہنے لگا اے میرے بیٹے ! میں تمہارے ساتھ اتفاق کرتا ہوں، محمد معزز ہے اور میں ذلیل ہوں۔نوجوان عبد اللہ نے اس پر اپنے باپ کو چھوڑ دیا۔لے مدینہ پر سارے عرب کی چڑھائی غزوہ خندق اس سے پہلے یہود کے دو قبیلوں کا ذکر کیا جا چکا ہے جولڑائی ،فساد قتل اور قتل کرنے کے منصوبوں کی وجہ سے مدینہ سے جلا وطن کر دیئے گئے تھے۔انمیں سے بنو نضیر کا کچھ حصہ تو شام کی طرف ہجرت کر گیا تھا اور کچھ حصہ مدینہ سے شمال کی طرف خیبر نامی ایک شہر کی طرف ہجرت کر گیا تھا۔خیبر عرب میں یہود کا ایک بہت بڑا مرکز تھا اور ایک قلعہ بند شہر تھا۔ترمذی کتاب التفسیر تفسیر سورۃ المنافقين + سیرت ابن هشام جلد ۲ صفحه ۱۳۸