نبیوں کا سردار ﷺ — Page 113
۱۱۳ نبیوں کا سردار سے ایک قبیلہ بنی مصطلق تھا۔اُن کے تعلقات مسلمانوں کے ساتھ اچھے تھے مگراب اُنہوں نے مدینہ پر حملہ کرنے کی تیاری شروع کر دی۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اُن کی تیاری کا علم ہوا تو آپ نے حقیقت حال دریافت کرنے کے لئے کچھ آدمی بھیجے۔جنہوں نے واپس آکر اُن اطلاعات کی تصدیق کی۔اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ خود جا کر اس نے حملہ کا مقابلہ کریں۔چنانچہ آپ نے ایک فوج تیار کی اور اُسے لے کر بنو مصطلق کی طرف گئے۔جب مسلمانوں کی فوج کا دشمن سے مقابلہ ہوا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کوشش کی کہ دشمن بغیر لڑائی کے پیچھے ہٹ جانے پر آمادہ ہو جائے مگر اُنہوں نے انکار کیا۔اس پر جنگ ہوئی اور چند گھنٹوں کے اندردشمن کو شکست ہوگئی۔چونکہ کفارِ مکہ مسلمانوں کو نقصان پہنچانے پر تلے ہوئے تھے اور جو قبائل دوست تھے وہ بھی دشمن بن رہے تھے، اس لئے اُن منافقین نے بھی جو مسلمانوں کے درمیان موجود تھے اس موقع پر یہ جرات کی کہ وہ مسلمانوں کی طرف سے ہو کر جنگ میں حصہ لیں۔غالباً اُن کا خیال تھا کہ اس طرح انہیں مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کا موقع مل سکے گا مگر بنو مصطلق کے ساتھ جولڑائی ہوئی وہ چند گھنٹوں میں ختم ہوگئی اس لئے اس لڑائی کے دوران میں منافقین کو کوئی شرارت کرنے کا موقع نہ مل سکا۔مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ بنو مصطلق کے قصبہ میں کچھ دن قیام فرمائیں۔آپ کے قیام کے دوران میں ایک مکہ کے رہنے والے مسلمان کا ایک مدینہ کے رہنے والے مسلمان سے کنویں سے پانی نکالنے کے متعلق جھگڑا ہو گیا۔اتفاق سے یہ مکہ والا آدمی ایک آزاد شدہ غلام تھا اُس نے مدینہ والے شخص کو مارا۔جس پر اُس نے اہل مدینہ کو جنہیں انصار کہتے تھے پکارا اور مکہ والے نے مہاجرین کو پکارا۔اس طرح جوش پھیل گیا۔کسی نے یہ دریافت کرنے کی کوشش نہ کی کہ اصل واقعہ کیا ہے۔دونوں طرف کے جوان آدمیوں نے تلوار میں نکال لیں۔عبداللہ