نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 108 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 108

۱۰۸ نبیوں کا سردار حملہ کر دیا اور مسلمان بغیر خوف شکست کے لڑتے چلے گئے، یہاں تک کہ دس میں سے سات شہید ہو گئے۔باقی تین جو بچ رہے تھے اُن کو کفار نے پھر وعدہ دیا کہ ہم تمہاری جانیں بچالیں گے بشرطیکہ تم ٹیلے سے نیچے اتر آؤ۔لیکن جب وہ کفار کے وعدہ پر اعتبار کر کے نیچے اُتر آئے تو کفار نے انہیں اپنی کمانوں کی تانتوں سے جکڑ کر باندھ لیا۔اس پر اُن میں سے ایک نے کہا کہ یہ پہلی خلاف ورزی ہے جو تم اپنے عہد کی کر رہے ہو اللہ ہی جانتا ہے کہ تم اس کے بعد کیا کرو گے۔یہ کہہ کر اُس نے اُن کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا۔کفار نے اُس کو مارنا اور گھسیٹنا شروع کر دیا۔مگر آخر اُس کے مقابلے اور استقلال سے اس قدر مایوس ہو گئے کہ انہوں نے اُس کو وہیں قتل کر دیا۔باقی دو کو وہ ساتھ لے گئے اور بطور غلاموں کے قریش مکہ کے پاس فروخت کر دیا ان میں سے ایک کا نام حبیب تھا اور دوسرے کا زید۔خبیب کا خریدار اپنے باپ کا بدلہ لینے کے لئے جسے خبیب ” نے جنگ بدر میں قتل کیا تھا خبیب کو قتل کرنا چاہتا تھا۔ایک دن حبیب نے اپنی ضرورت کے لئے اُسترا مانگا۔اُستر اخبیب کے ہاتھ میں تھا کہ گھر والوں کا ایک بچہ کھیلتے ہوئے اُس کے پاس چلا گیا۔خبیب نے اس کو اُٹھا کر اپنی ران پر بیٹھا لیا۔بچے کی ماں نے جب یہ دیکھا تو دہشت زدہ ہوگئی اور اُسے یقین ہو گیا کہ اب خبیب بچے کو قتل کر دے گا کیونکہ وہ خبیب کو چند دنوں میں قتل کرنے والے تھے۔اُس وقت اُسترا اُس کے ہاتھ میں تھا اور بچہ اُس کے اتنا قریب تھا کہ وہ اُسے نقصان پہنچا سکتا تھا۔حبیب نے اُس کے چہرے سے پریشانی کو بھانپ لیا اور کہا کہ کیا تم خیال کرتی ہو کہ میں تمہارے بچے کو قتل کر دونگا ؟ یہ خیال کبھی دل میں نہ لاؤ میں ایسا بر افعل نہیں کر سکتا۔مسلمان دھوکا باز نہیں ہوتے۔وہ عورت خبیب کے اس دیانتدارانہ اور صحیح طریق عمل سے بہت متاثر ہوئی۔اس بات کو اُس نے ہمیشہ یادرکھا بخاری کتاب المغازی باب غزوة الرجيع۔۔۔۔(الخ)