نبیوں کا سردار ﷺ — Page 109
ย 1+9 نبیوں کا سردار اور ہمیشہ کہا کرتی تھی کہ میں نے خبیب سا قیدی کوئی نہیں دیکھا۔آخر کار مکہ والے خبیب کو ایک کھلے میدان میں لے گئے تا اُس کو قتل کر کے جشن منائیں۔جب اُن کے قتل کا وقت آن پہنچا تو خبیب نے کہا کہ مجھے دو رکعت نماز پڑھ لینے دو۔قریش نے اُن کی یہ بات مان لی اور خبیب نے سب کے سامنے اس دنیا میں آخری بار اپنے اللہ کی عبادت کی۔جب وہ نماز ختم کر چکے تو انہوں نے کہا کہ میں اپنی نماز جاری رکھنا چاہتا تھا مگر اس خیال سے ختم کر دی ہے کہ کہیں تم یہ نہ سمجھو کہ میں مرنے سے ڈرتا ہوں۔پھر آرام سے اپنا سر قاتل کے سامنے رکھ دیا اور ایسا کرتے ہوئے یہ اشعار پڑھے: وَلَسْتُ أَبَالِي حِيْنَ أَقْتَلُ مُسْلِمًا عَلَى أَيِّ جَنْبِ كَانَ لِلَّهِ مَصْرَعِى وَذَلِكَ فِي ذَاتِ الْإِلَهِ وَإِنْ يَشَأْ يُبَارِكَ عَلَى أَوصَالِ شِلْوِ مُمَزَّعِ یعنی جبکہ میں مسلمان ہونے کی حالت میں قتل کیا جارہا ہوں تو مجھے پرواہ نہیں ہے کہ میں کس پہلو پر قتل ہو کر گروں۔یہ سب کچھ خدا کے لئے ہے۔اور اگر میرا خدا چاہے گا تو میرے جسم کے پارہ پارہ ٹکڑوں پر برکات نازل فرمائے گا۔خبیب نے ابھی یہ شعر ختم نہ کیے تھے کہ جلاد کی تلوار اُن کی گردن پر پڑی اور اُن کا سرخاک پر آ گرا۔جو لوگ یہ جشن منانے کے لئے جمع ہوئے تھے اُن میں ایک شخص سعید بن عامر بھی تھا جو بعد میں مسلمان ہو گیا۔کہتے ہیں کہ جب کبھی خبیب کے قتل کا ذکر سعید بہنو کے سامنے ہوتا تو اس کوشش آجایا کرتا۔سے دوسرا قیدی زید بھی قتل کرنے کے لئے باہر لے جایا گیا۔اس تماشہ کو دیکھنے والوں میں ابوسفیان رئیس مکہ بھی تھا۔وہ زید کی طرف متوجہ ہوا اور پوچھا کہ کیا تم پسند نہیں کرتے بخاری کتاب المغازی باب غزوة الرجيع۔۔۔۔الخ) ک سیرت ابن ہشام جلد ۳ صفحه ۱۸۲ ، ۱۸۳ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ ء