نبیوں کا سردار ﷺ — Page 107
۱۰۷ نبیوں کا سردار اسلام کی طرف مائل ہیں اور درخواست کی کہ کچھ آدمی جو تعلیم اسلام سے پوری طرح سے واقف ہوں بھیج دیئے جائیں تا کہ وہ اُن کے درمیان رہ کر اُن کو اس نئے مذہب کی تعلیم دیں۔دراصل یہ ایک سازش تھی جو اسلام کے پکے دشمن بنولحیان نے کی تھی اور ان کا مقصد یہ تھا کہ جب یہ نمائندے مسلمانوں کو لے کر آئیں گے تو وہ اُن کو قتل کر کے اپنے رئیس سفیان بن خالد کا بدلہ لیں گے۔چنانچہ انہوں نے عضل اور قارۃ کے نمائندوں کو اس غرض سے کہ وہ چند مسلمانوں کو اپنے ساتھ لے آئیں، انعام کے بڑے بڑے وعدے دے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا تھا۔جب عضل اور قارۃ کے لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ کر درخواست کی تو آپ نے اُن کی بات پر اعتبار کر کے دس مسلمانوں کو اُن کے ساتھ کر دیا کہ ان کو اسلام کے عقائد اور اصولوں کی تعلیم دیں۔جب یہ جماعت بنو لحیان کے علاقہ میں پہنچی تو عضل اور قارة کے لوگوں نے بنولحیان کو اطلاع بھجوادی اور اُن کو کہلا بھیجا کہ مسلمانوں کو یا تو گرفتار کر لیں یا موت کے گھاٹ اُتار دیں۔اس ناپاک منصوبے کے ماتحت بنو لحیان کے دو سو مسلح آدمی مسلمانوں کے تعاقب میں نکل کھڑے ہوئے اور آخر مقام رجیع میں اُن کو آگھیرا۔دس مسلمانوں اور دوسو دشمنوں کے درمیان لڑائی ہوئی۔مسلمانوں کے دل نور ایمان سے پر تھے اور دشمن اس سے تہی تھے۔دس مسلمان ایک ٹیلہ پر چڑھ گئے اور دو سو آدمیوں کو دعوت مبارزت دی۔دشمن نے ایک فریب کر کے اُن کو گرفتار کرنا چاہا اور اُن سے کہا کہ اگر تم نیچے اتر آؤ تو تمہیں کچھ نہ کہا جائے گا مگر مسلمانوں کے امیر نے کہا کہ ہم کافروں کے عہد و پیمان کو خوب دیکھ چکے ہیں۔اس کے بعد اُنہوں نے آسمان کی طرف منہ اُٹھا کر کہا اے خدا! تو ہماری حالت کو دیکھ رہا ہے اپنے رسول کو ہماری اس حالت سے اطلاع پہنچا دے۔جب کفار نے دیکھا کہ مسلمانوں کی اس چھوٹی سی جماعت پر اُن کی باتوں کا کوئی اثر نہیں ہوتا تو انہوں نے اُن پر