مواہب الرحمٰن — Page 64
مواهب الرحمن ۶۴ اردو تر جمه وأُخـرجـوا مـن البيوت، وبـقـى | وہ گھروں سے نکال دیئے گئے اور تدابیر کرنے المدبرون في أعين الناس والے معالجین لوگوں کی نگاہوں میں مغضوب كالممقوت۔والتطعيم جعل ہو گئے۔ٹیکا نے ان سب کو آنِ واحد میں مردے كلهم في ساعة أمواتا، فصدروا بنا دیا۔اور وہ جابجا بکھر کر رہ گئے۔اور جو نہ مرے أشتاتا، والذين لم يموتوا فابتلوا وہ بعض عوارض میں مبتلا ہو گئے۔وہ چو پاؤں جیسے وہ ببعض عوارض، وكانوا كبهائم تھے اور طاعون نے کسی پیر و جواں کو نہ چھوڑا پس فما تَرَكَ الطاعونُ البِكْرَ فيهم جن لوگوں نے اس سے اجتناب کیا وہ ٹیکا لگوانے ولا الفارض۔والذين اجتنبوا فهم کی مجالس (سینٹرز) سے نکلے اور بد کے ہوئے طلعوا من مجالس التطعيم طلوع جانور کے دوڑنے کی طرح بھاگے۔ہمیں نہیں شارد، ونفروا نفار آبد، ما نعلم معلوم اللہ نے اُن کے ساتھ کیا کیا۔پس یہ ہیں ٹیکا ما صنع الله بهم۔فهذه فوائد لگوانے کے فائدے اور یہ ہے اس کا بڑا نفع۔پس التطعيم، وهذا نفعه العظيم ! فلا تم رب کریم کے وعدے کا انکار نہ کرو۔کیونکہ بہ تنكرواوعد رب كريم، وإنه رب رحیم کی طرف سے رحمت و سلامتی کا پیغام رحمة وسلام قولا من رب ہے۔اور رہی ٹیکا لگوانے کی بات تو اس سے کتنے رحيم۔وأما التطعيم فكم من ہی گھر ویران ہوگئے اور کتنی ہی آنکھیں تھیں جو بيوت به خلَتْ ، وكم من عيون اشکبار ہوئیں۔اس بستی ( ملکوال ) پر کیا گزری جس اغرورقت ما بال قرية يبكون کے یتیم اپنے باپوں کو یاد کر کے رورہے ہیں وہ اس يتاماها بذكر الآباء ؟ و ما ماتوا دوا کے زہر سے ہی مرے تھے۔اور جن لوگوں پر إلا بسمّ هذا الدواء ، والذين شن موت نے غارتگری کی ان میں سے اکثر جواں الغارة عليهم الفَناء، كان أكثرهم سال تھے۔پس اس بستی کی تباہی ہو جس میں وہی السن في فتاء فويل لقرية کچھ وقوع پذیر ہوا جس کی میں نے توقع کی تھی اور حم فيها ما توقعته، وظهر ما أشعته، وہی ظہور میں آیا جسے میں نے شائع کر دیا تھا۔