مواہب الرحمٰن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 63 of 177

مواہب الرحمٰن — Page 63

مواهب الرحمن ۶۳ اردو تر جمه ويشابه السفينة طوبى لأوراق اور جو کشتی (نوح) کی مانند ہے۔مبارک ہیں وہ هي مرآتك، وواها لأقلام هي اوراق جو تیرا آئینہ ہیں اور کیا کہنا ان قلموں کا جو أدواتك وصحفك نشرت تیرے آلات تحریر بنے۔اور تیرے صحیفوں نے لنا أوراقها عند کل ضرورة اپنے اوراق کو ہر ضرورت کے موقع پر نہایت لطیف بألطف صورة ، كأنها ثمرات أو رنگ میں ہمارے سامنے پھیلا کر پیش کیا۔گویا وہ عذاری متبرجات۔فالحاصل أنى (اوراق) پھل ہیں یا بنی سنوری کنواریاں ہیں۔وجدت كل ما وجدتُ من وحى خلاصہ کلام یہ کہ میں نے جو کچھ بھی پایا وہ رحمن الرحمن۔ونسَأْتُ نِضُوى خدا کی وحی سے پایا۔میں اپنے تھکے ہوئے لاغر المجهود بسوطه إلى أهل اونٹ کو تازیانہ لگاتے ہوئے دشمنوں کی طرف لے العدوان۔وإن حيل الإنسان لا گیا۔یقیناً انسان کی تدابیر رحمن خدا کی وحی کا تبارز وحى الرحمن، إلا ويغلب مقابلہ نہیں کرسکتیں اور اگر مقابلہ ہو تو وحی غالب الوحى ويهدها من البنيان ألم تر آئے گی اور اس کو جڑ سے اکھاڑ دے گی۔کیا تو نے كيف فعل ربنا بالمخاصمين؟ الم نہیں دیکھا کہ ہمارے رب نے جھگڑا کرنے يجعل تطعيمهم مليمهم وأكرمنا والوں سے کیا کیا۔کیا اس نے ان کے ٹیکا لگوانے بالفتح المبين؟ وسمعتم کیف کو ان کے لئے قابل ملامت نہیں بنایا ؟ اور ہمیں اعتاض الناس منه بالراحة فتح مبين عطا کر کے ہماری عزت افزائی فرمائی تم النصب، وبالصحة الوصب، و نے سن لیا ہے کہ لوگوں نے ٹیکا کے باعث کس بالحياة الحمام، وبالنور الظلام؟ طرح راحت کی بجائے رنج صحت کی بجائے وما زال التطعيم يطرح بهم کل بیماری زندگی کی بجائے موت ،اور نور کی بجائے ظلمت اه مطرح، وينقلهم إلى مصرع من پائی۔اور ٹیکا انہیں مسلسل مصائب میں ڈالتا رہا اور مسرح ، حتی زهقت نفوسهم تفریح گاہ سے مقتل میں منتقل کرتا رہا۔یہاں تک کہ ان کی جانیں نکل گئیں اور وہ مبہوت ہو کر رہ گئے۔وهم كالمبهوت۔