مواہب الرحمٰن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 27 of 177

مواہب الرحمٰن — Page 27

مواهب الرحمن ۲۷ اردو ترجمہ تلك الموامي۔ فكيف أشكر ربّی محافظ کی طرح میرے آگے آگے چلا اور ان الذي نجاني من الآفات، علی بیابانوں میں میرے ساتھ ساتھ رہا ۔ پس میں کلولى هذا حسرات ۔ يا أسفار اپنے رب کا کس طرح سے شکر کروں جس نے مجھے عليهم۔ إنهم لا يفكرون أن تمام آفات سے نجات دی ۔ مجھے ( شکر کی ادائیگی میں) اپنی درماندگی پر حسرت ہے۔ افسوس ان الكاذبين لا يؤيدون من الحضرة، ولا مخالفوں پر ! وہ یہ نہیں سوچتے کہ جھوٹے جناب الہی يتكلمون بكلام البر والحكمة، ولا سے تائید نہیں پاتے اور نہ وہ نیکی اور حکمت کی يُرزقون من أسرار المعرفة۔ وهل باتیں کرتے ہیں ۔ اور نہ ہی وہ اسرار معرفت دیئے تعلم كاذبًا شهدت له السماوات جاتے ہیں ۔ کیا تجھے کسی ایسے کاذب کا علم ہے کہ جس والأرض بالآيات البيِّنة کی آسمانوں اور زمین نے کھلے کھلے نشانوں کے ساتھ واضمحلت به قوة الشيطان شہادت دی ہو؟ اور اس سے شیطان کی قوت مضحل ہو وتخافت صوته من السطوة گئی ہو اور حقانیت کے دبدبے سے اُس شیطان کی الحقانية، وطفق يريد الغيبوبة آواز دب گئی ہو؟ اور وہ اس سانپ کی طرح غائب كحية تأوى إلى جُحْرِها عند رمي ہونے لگے جو پتھر پھینکے جانے پر اپنے بل میں پناہ لے لیتا ہے۔ علاوہ ازیں زمانے ۔ علاوہ ازیں زمانے کی ظلمت خدا۔ الصخرة؟ ثم مع ذالك تدعوا ظلمة الزمان إمامًا من الرحمن، رحمن سے امام کا تقاضا کر رہی ہے۔ اب تو صدی کے سر سے قریباً پانچواں حصہ (میں سال ) بھی گزر وقد انقضى من رأس المائة قريبا چکا۔ اور ملت اسلامیہ اپنے ضعف کی وجہ سے من خمسها، ودنت الملة لضعفها اپنی قبر کے قریب پہنچ گئی ہے اور غفلت نے من رمسها وداست الغفلة قلوب لوگوں کے دلوں کو پامال کر دیا ہے ۔ اور ان میں الناس وصار أكثرهم كالكلاب، سے اکثر کتوں کی طرح ہو گئے ہیں ۔ ان کی وتوجهوا إلى الأموال والعقار تمام تر توجه مال مویشی ، جاگیروں ، جائیدادوں ﴿۲۲﴾