مواہب الرحمٰن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 168 of 177

مواہب الرحمٰن — Page 168

مواهب الرحمن ۱۶۸ اردو تر جمه ورثتـمـوهـا مـن الآباء ، وهذا هو | جو تمہیں اپنے آبا ؤ اجداد کی طرف سے ورثے میں ملے۔اور یہی سرکشی کا سبب ہے۔سبب الإباء۔(۱۳۵) وزعمت أنك تستطيع أن تكتب اور يہ تمہارا زعم ہے کہ تم میرے مقابلہ میں قرآن کی تفسير بعض سور القرآن قاعدًا بعض سورتوں کی تفسیر لکھنے کی استطاعت رکھتے ہو بحذائي وتُملى كإملائي وما اور میرے جیسی انشا پردازی کر سکتے ہو۔اور اس تريد من هذا الهذيان إلا لتشتبه بیہودہ گوئی سے تمہارا مقصد صرف یہ ہے کہ زمانے أمر إعجازى على جهلاء الزمان۔النضال، وإبطال المعجزة التي کے جاہلوں پر میرے اعجاز کا معاملہ مشتبہ ہو فإن كنت تقدر على هذا جائے۔اگر تم اس مقابلے کی طاقت رکھتے ہو اور ا أعطيت من الله ذی الجلال، اس معجزے کا ابطال کر سکتے ہو جو خدائے ذوالجلال فنقبل دعوتك وجلالتك كى طرف سے مجھے دیا گیا تو ہم تمہاری دعوت لكن بشرط أن يقبل علماء ك ( مقابلہ ) اور علو مرتبت کو صرف اس شرط کے الأكابر وكالتك، بأن يحسبوا ساتھ قبول کرتے ہیں کہ تمہارے اکابر علماء تمہیں هزيمة أنفسهم هزيمتك۔فلا بد اپنا نمائندہ قبول کریں۔اور تمہاری ہزیمت کو وہ خود لك أن تأتى بعشرين رقعة مكتوبة اپنی ہزیمت سمجھیں۔لہذا تمہارے لئے ضروری مشتملة على ذالك الإقرار من۔عشرين علمائك الأكابر ہے کہ تم ملک کے میں مشہور اکابر علماء کی طرف المشهورين في الديار وإن كنت سے اس اقرار پر مشتمل ہیں تحریری رقعے پیش ليس هذا الأمر في قدرتك، کرو۔اور اگر ایسا کرنا تمہاری طاقت سے باہر ہو تو فاحلف بالطلاق الثلاث على پھر اپنی بیوی کو تین طلاقیں دینے کا حلف اٹھاؤ۔کہ امرأتك، على أنك إن لم تقدر على اگر تمہیں میری جیسی پر معارف اور فصاحت و بلاغت إملاء تفسير كمثلي في المعارف سے بھر پور تفسیر نویسی پر قدرت نہ ہوئی تو پھر تم والفصاحة والبلاغة، فتبايعني على في الفور بغیر کسی حیل و حجت کے میری بیعت کرلو مكانك من غير نوع من الحيلة، وإلا فلا نكترث بن گے ورنہ ہم تمہاری کوئی پرواہ نہیں کریں گے۔