مواہب الرحمٰن — Page 167
مواهب الرحمن ۱۶۷ اردو تر جمه يظن أنه قطعيّةُ المغفرة۔فيا رَبِّ | خیال کرتا ہے کہ اس کی مغفرت قطعی ہے۔اے أجِبُهم من السماء ، وليس لنا من میرے ربّ! آسمان سے تو ہی انہیں جواب دونك عند هذه الفتنة۔رب إن دے۔ایسے فتنے کے موقع پر بجز تیرے ہمارا کوئی كنت وجدتني اخترت طریقا نہیں۔اے میرے رب ! اگر تو مجھے ایسا پاتا ہے کہ غير طريق الفلاح، فلا تترکنی میں نے وہ راہ اختیار کی ہے جو فلاح کی راہ نہیں تو من ليلتي هذه إلى الصباح۔أيها۔تو مجھے اس رات کی صبح تک (زندہ) نہ چھوڑ۔اے المعادون! ليس بناء نزاعكم إلا دشمنو! تمہارے نزاع کی بنا صرف ایک مسئلے پر على مسألة واحدة، فَلِمَ لَا ہے۔پھر کیوں تم واضح نشانوں پر مطمئن نہیں تطمئِنون بآيات شاهدة؟ وإننا تمسكنا في أمر وفاۃ عیسی ہوتے۔ہم نے تو حضرت عیسی کی وفات کے بالقرآن، وما تمسكتم إلا معاملے میں قرآن کو مضبوطی سے پکڑا ہے۔لیکن بالهذيان۔ولو فرضنا علی سبیل تمہارے پاس صرف یاوہ گوئی ہے۔اور اگر ہم بر التنزل أن المقام محتمل سَبِيلِ تَنَزَل یہ فرض کر لیں کہ یہ مقام دو معنوں کا للمعنيين، فالمعنى الذي جاء به احتمال رکھتا ہے۔پس وہ معنی جو حکم نے پیش کیا الحكم أحق بالقبول عند ذوی ہے وہ اہل نظر کے نزدیک زیادہ قبول کئے جانے العينين، ودون ذالك جرأة على کے لائق ہے۔اور اس کے علاوہ اللہ کے مقابلے پر الله وخروج إلى الكذب بیا کی اور کذب و دروغ کی جانب خروج والمين۔وقد يوجد استعارات في بعض الأنباء ، فلا يغرنكم ہے۔بعض پیش خبریوں میں استعارات پائے جاتے ہیں سوائے عظمندو! بعض احادیث صحیحہ کے ظاهر بعض الأحاديث بفرض ظاہری الفاظ تمہیں دھوکے میں نہ ڈالیں۔اور کس صحتها یا ذوى الدهاء وأى نظير الجأكم إلى المعنى الذى نظیر نے تمہیں ان معنوں پر مجبور کیا ہے جو تم اختیار تختارونه، ونهج تؤثرونه؟ فلیس کر رہے ہو۔اور کس طریق کو تم ترجیح دے رہے ہو والله عندكم إلا رسم وعادة بخدا تمہارے پاس اُن رسم و رواج کے سوا کچھ نہیں